طویل عرصے سے چکن کو ایک صحت مند اور محفوظ غذا سمجھا جاتا رہا ہے، خصوصاً اُن افراد کے لیے جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں یا ورزش کے شوقین ہیں۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس عام تاثر پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں اور چکن کے حد سے زیادہ استعمال کو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
تازہ تحقیق کے مطابق جو افراد ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ چکن کا استعمال کرتے ہیں، اُن میں معدے اور آنتوں سے متعلق بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایسے افراد میں مختلف اقسام کے کینسر کا خدشہ زیادہ پایا گیا، جس میں معدے کے علاوہ جگر، لبلبہ اور آنتوں کے دیگر مسائل بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ چکن کو عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں بہتر اور ہلکی غذا تصور کیا جاتا ہے، لیکن مقدار اور استعمال کا طریقہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مردوں میں زیادہ مقدار میں چکن کھانے سے صحت کے سنگین مسائل کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ چکن بذاتِ خود بیماری کی براہِ راست وجہ نہیں بنتا، بلکہ اصل مسئلہ اس کا حد سے زیادہ استعمال اور غلط پکانے کے طریقے ہیں۔ خاص طور پر جب چکن کو تیز آنچ پر فرائی یا زیادہ درجہ حرارت پر گرل کیا جاتا ہے تو اس میں ایسے مضر کیمیکل پیدا ہو سکتے ہیں جو انسانی ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پراسیس شدہ چکن اور پولٹری فارمنگ میں استعمال ہونے والی اینٹی بایوٹکس بھی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ چکن کو اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے اور ہفتے میں 300 گرام تک کی مقدار کو نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
صحت مند طرزِ زندگی کے لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خوراک میں صرف چکن پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مچھلی، انڈے، دالیں، سبزیاں اور فائبر سے بھرپور غذاؤں کو روزمرہ خوراک میں شامل کیا جائے تاکہ جسم کو متوازن اور مکمل غذائیت فراہم کی جا سکے۔