ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کو یقینی بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے، جبکہ معاہدے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی حمایت ناگزیر ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی اور فرانس کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی تازہ صورتحال، جنگ بندی کے معاہدے اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے تاہم اس کی کامیابی کے لیے تمام فریقوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کے مطابق لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی برقرار رکھنا اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا امریکا کی ذمہ داری ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی سیاسی و سفارتی حمایت بھی ضروری ہے تاکہ خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا نہ ہو اور امن کا عمل آگے بڑھ سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور فرانس کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سفارتی ماحول دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے سفارتی عمل اور جاری مذاکرات کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔