ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 3.87 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 13 اشیاء مہنگی جبکہ 13 اشیاء سستی ہوئیں، جس سے صارفین کو محدود سطح پر ریلیف ملا تاہم مجموعی رجحان مہنگائی میں اضافے کا رہا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر فی کلو 18 روپے مہنگے ہو گئے، جبکہ گندم کے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 76 روپے 78 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح انڈے فی درجن 7 روپے مہنگے ہوئے۔ توانائی کے شعبے میں بھی صارفین پر بوجھ بڑھا، جہاں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 240 روپے 59 پیسے مہنگا ہو گیا۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ مہنگی ہونے والی دیگر اشیاء میں جلانے کی لکڑی، چینی اور بچوں کا دودھ بھی شامل ہیں، جن کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق کچھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ آلو اور پیاز فی کلو 3 روپے سستے ہوئے، جبکہ چکن فی کلو 7 روپے 44 پیسے تک سستا ہوا۔ اس کے علاوہ نمک، گڑ، چاول، دال ماش اور دال مسور کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی نے جزوی ریلیف فراہم کیا ہے، تاہم آٹا، سبزیاں اور ایل پی جی جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام صارف کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔