روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان اور روس کے ہر دن سے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے نامزد کردہ سفیر فیصل ترابی نے روسی صدر کو اپنی اسناد پیش کیں، اس موقع پر پیوٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے گفتگو کی جو سفارت خانے نے اعلامیے کی صورت میں جاری کردی۔
پیوٹن نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، وہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور یہ خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے۔ پیوٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک دوسرے کیلیے حقیقی معنوں میں مفید قرار دیا اور کہا کہ روس پاک تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، یہاں مقیم پاکستانی برادری سےروابط کوترجیح دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: روس: ماسکو میں برفباری نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے، برف کے ڈھیر لگ گئے
قبل ازیں نو تعینات سفیروں کی اسنادِ سفارت پیش کرنے کی تقریب میں صدر پیوٹن نے تقریر کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، آج کی متنوع اور باہم مربوط دنیا میں عالمی استحکام اور سلامتی کا براہِ راست انحصار ریاستوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ کس حد تک تعمیری انداز میں باہمی تعامل کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شفاف اور دیانت پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، امن خود بخود قائم نہیں ہوتا، بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے اور یہ ایک نہایت محنت طلب عمل ہے، ہمیں امن کے حصول کے لیے مسلسل کوشش، ذمہ داری کا احساس اور شعوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
پیوٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بات مزید اہم ہو گئی ہے کیونکہ عالمی ماحول بتدریج خراب ہو رہا ہےن پرانے تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ کشیدگی کے نئے اور سنگین محاذ بھی کھل رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یکطرفہ اور خطرناک اقدامات اکثر سفارت کاری، مفاہمت اور ایسے حل تلاش کرنے کی کوششوں کی جگہ لے رہے ہیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔