ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر دی راک کو جرمانہ

ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر دی راک کو جرمانہ

ہالی ووڈ کے سپر اسٹار اور سابق ڈبلیو ڈبیلو ای(WWE) ریسلرڈوین جانسن المعروف ’دی راک‘ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر پولیس نے روک لیا، اور یہ خبر سوشل میڈیا پر صرف اس لیے وائرل نہیں ہوئی کہ معاملہ ایک مشہور شخصیت کا تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے دنیا بھر میں “قانون سب کے لیے برابر” ہونے کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 53 سالہ اداکار لاس اینجلس میں ہالی ووڈ واک آف فیم سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے، جب پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا۔ حکام کے مطابق گاڑی کے شیشے حد سے زیادہ ٹینٹڈ تھے، جو کیلیفورنیا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محبت کے لیے اپنے خواب قربان نہیں کروں گی، دانانیر مبین کا دو ٹوک بیان وائرل

کیلیفورنیا کے قوانین کے مطابق گاڑی کے اگلے شیشوں میں کم از کم 70 فیصد شفافیت ضروری ہے تاکہ ڈرائیور واضح طور پر نظر آ سکے۔ اسی طرح ونڈ شیلڈ صرف اوپر کے چند انچ تک ہی ٹینٹڈ کی جا سکتی ہے۔ اگر پچھلا شیشہ مکمل یا زیادہ ٹینٹڈ ہو تو گاڑی میں دونوں سائیڈ مررز کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق پہلی بار ایسی خلاف ورزی پر تقریباً 25 ڈالر جرمانہ کیا جاتا ہے اور گاڑی کو فوری طور پر قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ تاہم اگر یہی خلاف ورزی دوبارہ دہرائی جائے تو جرمانہ 200 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور باقاعدہ چالان بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے،مگر کروڑوں بچوں کا بچپن ہمیشہ زندہ رہے گا

دی راک جیسے عالمی شہرت یافتہ اداکار کو پولیس کی جانب سے روکنا کئی لوگوں کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں طاقتور شخصیات اکثر قانون سے بالاتر سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن امریکا میں ایک مشہور اداکار، ارب پتی بزنس مین یا سیاسی شخصیت بھی ٹریفک قوانین سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔

یہ بھی پڑھیں :فلسطین کی حمایت پر آسکر یافتہ اداکار جاویر بارڈیم کو ہالی ووڈ میں کام ملنا بند

پاکستان میں اکثر شہری اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ یہاں قوانین کا اطلاق ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتا۔ کالے شیشوں والی گاڑیاں، بغیر نمبر پلیٹس کی لینڈ کروزرز، فینسی لائٹس، سائرن اور پروٹوکول کلچر برسوں سے طاقت اور اثر و رسوخ کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ کئی بار عام شہری کو معمولی خلاف ورزی پر روک لیا جاتا ہے، جبکہ بااثر شخصیات کی گاڑیاں بغیر کسی پوچھ گچھ کے گزر جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’امریکا میں دی راک کو بھی نہیں چھوڑا گیا، لیکن ہمارے ہاں کچھ گاڑیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر ٹریفک پولیس بھی راستہ بدل لیتی ہے

یہ بھی پڑھیں :معرکہ حق کی سالگرہ، شوبز انڈسٹری کا پاک فوج کے لیے خراجِ تحسین

کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ترقی یافتہ معاشروں اور کمزور نظاموں میں سب سے بڑا فرق صرف معیشت یا ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ قانون کی برابری ہے۔ جب ایک ملک میں عالمی شہرت یافتہ اداکار کو بھی ٹریفک قوانین ماننے پڑتے ہیں، تو اس سے اداروں کی سنجیدگی اور قانون کی طاقت ظاہر ہوتی ہے۔

دی راک نے اس معاملے پر باضابطہ کوئی بیان جاری نہیں کیا، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال چھوڑ گیا کہ آخر قانون واقعی طاقتور ہوتا ہے یا طاقتور لوگ قانون سے اوپر ہوتے ہیں؟

editor

Related Articles