سونا مزید ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا

سونا مزید ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا

پاکستان میں سونے کی قیمت نے ایک نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، عالمی اور مقامی مارکیٹ میں غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث نہ صرف سونا بلکہ چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عام خریدار اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 7 ہزار 500 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 6 ہزار 431 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ بڑھ کر 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے پر بند ہوئی۔ صرافہ بازاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس قدر تیز اضافہ ماضی میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 94 ڈالر مہنگا ہو کر 4 ہزار 689 ڈالر تک جا پہنچا، جو عالمی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سوناخریدنا خواب بن گیا، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

ماہرین کے مطابق عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سونے کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں،دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 300 روپے مہنگی ہو کر 9 ہزار 782 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

تاہم عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس چاندی 0.61 سینٹ کم ہو کر 93.47 ڈالر پر بند ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی اور عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتوں کا فرق طلب اور رسد کے فرق کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

سونے کی عالمی قیمت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر کی جانب سے یورپی ممالک پر مزید تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان ہے، جس سے عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔اس غیر یقینی ماحول میں سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹس اور دیگر خطرناک سرمایہ کاری سے نکل کر سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا، جس کے باعث ان قیمتی دھاتوں کی طلب اور قیمت دونوں میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں سونامزید سستا ہوگیا

یاد رہے کہ سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افراطِ زر، سیاسی بے یقینی اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو،صدیوں سے سونا کرنسی اور دولت کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اور جب سرمایہ کار دیگر اثاثوں کے مستقبل کے بارے میں غیر مطمئن ہوتے ہیں تو وہ سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *