پاکستان کی یو اے ای کو ادائیگی، سعودی عرب سے بڑے مالیاتی پیکیج کے لیے رجوع

پاکستان کی یو اے ای کو ادائیگی، سعودی عرب سے بڑے مالیاتی پیکیج کے لیے رجوع

پاکستان کو اس وقت یورو بانڈز کی ادائیگیوں اور متحدہ عرب امارات کو رقم کی واپسی کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑے معاشی چیلنج کا سامنا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے بیرونی اکاؤنٹس پر دباؤ کم کرنے کی ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے، جس کے تحت مختلف متبادل ذرائع سے تقریباً 5 ارب ڈالر حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

اس مشن میں سعودی عرب کلیدی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے، جس سے نہ صرف مزید ڈپازٹس کی درخواست کی گئی ہے بلکہ مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے حجم اور مدت کو بھی دوگنا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ‘بیلنس آف پیمنٹس سپورٹ’ کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔

سرمایہ کاری کے محاذ پر ٹیکسٹائل، سیاحت، لیدر، فارماسیوٹیکل اور منرلز کے شعبوں میں سعودی تعاون بڑھانے پر بات چیت جاری ہے، جبکہ سولر انرجی کے منصوبوں میں 2 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری اور ریلوے کے شعبے میں فنڈنگ کے امکانات پر بھی مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔

اگرچہ سعودی فریق نے سرمایہ کاری پر گارنٹی طلب کی ہے، جس کا آئی ایم ایف پروگرام کی روشنی میں جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن مجموعی طور پر مذاکرات کا رخ مثبت ہے۔

حکومت کا حتمی ہدف آئی ایم ایف کی شرائط کے عین مطابق جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کو 18 ارب ڈالر اور دسمبر 2026 تک سوا 20 ارب ڈالرتک پہنچانا ہے۔

مزید پڑھیں:وزارت خارجہ نے یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دے دیئے

ان تمام اقدامات کا مقصد ایکسٹرنل اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنا اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے تاکہ مستقبل کی بین الاقوامی ادائیگیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

editor

Related Articles