حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف خیبرپختونخوا کی بڑی ناکامی و نااہلی، دنیا میں نایاب برفانی چیتا دیر کی پہاڑیوں میں ہلاک

حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف خیبرپختونخوا کی بڑی ناکامی و نااہلی، دنیا میں نایاب برفانی چیتا دیر کی پہاڑیوں میں ہلاک

خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف کی کارکردگی پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جب دنیا بھر میں نایاب اور ناپید ہوتی نسل سے تعلق رکھنے والا برفانی چیتا دیر کی پہاڑیوں میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ اس واقعے کو ماہرین ماحولیات اور مقامی آبادی حکومت کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ میں ’بڑی ناکامی اور نااہلی‘ قرار دے رہے ہیں۔

یہ برفانی تیندوا تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد 2 ماہ قبل دیر کے بالائی پہاڑی علاقوں میں دیکھا گیا تھا، جسے علاقے میں حیاتیاتی تنوع کی بحالی کی ایک امید افزا علامت سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم یہ امید اس وقت دم توڑ گئی جب پیر کی دوپہر کو اس نایاب برفانی تیندوے کی لاش منجمد حالت میں برآمد ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی چیتا کئی گھنٹے قبل ہی ہلاک ہو چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی گل پلازہ کے بعد کوئٹہ اچکزئی پلازہ میں آتشزدگی، پاک فوج کے جوان آگ بجھانے میں مصروف

کے پی وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے ویٹرنری اسپتال منتقل کیا۔ اگرچہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی، تاہم ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اس موت کو قدرتی قرار نہیں دیتے۔ ان کے مطابق شکار، زہر دیے جانے یا انسانی مداخلت کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

برفانی تیندوے کو انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر ’آئی یو سی این‘ نے نایاب اور خطرے سے دوچار نسل قرار دے رکھا ہے۔ یہ جانور پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں بشمول چترال، گلگت بلتستان اور ملحقہ علاقوں جیسے دیر میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رہائش گاہوں کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی شکار اور انسانی آبادی کے پھیلاؤ نے ان کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی کر دی ہے۔

پاکستان میں اندازاً جنگل میں موجود برفانی تیندوؤں کی تعداد 400 سے بھی کم بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہر ایک جانور کی ہلاکت نہ صرف ماحولیاتی توازن بلکہ تحفظ کی جاری کوششوں کے لیے بھی شدید دھچکا تصور کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی سطح پر خطرے سے دوچار برفانی چیتے کی پاکستان میں موجودگی، ماں کی 3 بچوں سمیت تصویر وائرل

یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں برفانی تیندوے کے تحفظ سے متعلق ناکامیوں کی ایک طویل اور پریشان کن تاریخ کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔ سال 2018 میں پشاور چڑیا گھر میں 10 سالہ برفانی تیندوا ’سہنی‘ ہلاک ہو گیا تھا، جس کی موت کو سرکاری طور پر بوڑھاپا قرار دیا گیا، تاہم ماہرین نے اسیرانہ ماحول اور ناقص سہولیات کو اصل وجہ بتایا تھا۔ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کا دعویٰ تھا کہ سہنی کو ناتھیا گلی سے منتقل کیا گیا تھا، مگر اس معاملے پر بھی شفاف تحقیقات سامنے نہ آ سکیں۔

اسی طرح 2011 میں اسکردو کے قریب پکڑے گئے ایک بیمار برفانی تیندوے کی بھی وائلڈ لائف حکام کی تحویل میں موت واقع ہوئی تھی۔ اس جانور پر کسی بیرونی چوٹ کے نشانات تو نہیں تھے، مگر وہ منج، نمونیا اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا پایا گیا تھا، جو بروقت علاج اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ناکافی نگرانی، وائلڈ لائف حکام کے تاخیر سے ردعمل اور وسیع و دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مؤثر گشت کے لیے وسائل کی شدید کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو برفانی تیندوا جیسے نایاب جانور خیبر پختونخوا سے ہمیشہ کے لیے ناپید ہو سکتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حالیہ واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے عملی اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے قیمتی جانوروں کا نقصان روکا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *