پاکستان کے صحافی فرحان ملک کی گرفتاری کامطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اچانک ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جہاں ’ایرسٹ فرحان ملک‘ جیسے ہیش ٹیگز کے تحت صارفین نے گرفتاری کا پرزور مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ فرحان ملک اور ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’رفتار‘ پر مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے اور قومی اداروں اور مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے، مخصوص مواد روکنے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو ترجیح دینے کا الزام ہے۔ ایسے سنگین الزامات کے بعد فرحان ملک کی فوری گرفتاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، اگر الزامات ہیں تو شفاف تحقیقات ہوں اور اگر جرم ثابت ہے تو فوری کارروائی کی جائے تاخیر انصاف کا قتل ہے۔
فرحان ملک، جو ’رفتار‘ کے بانی ہیں، پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں ایک متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مارچ 2025 میں انہیں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سائبر کرائم قوانین، خصوصاً پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ ’پیکا‘ اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ان کے یوٹیوب پروگرامز اور سوشل میڈیا مواد میں مبینہ طور پر ’ریاست مخالف‘ بیانیہ اور جعلی خبریں شامل تھیں۔
اس وقت ایف آئی اے نے ’رفتار‘ کے دفاتر پر چھاپے مارے، آلات ضبط کیے اور ویب سائٹ تک رسائی عارضی طور پر بند کر دی تھی۔ تاہم اپریل 2025 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سمیت صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شدید احتجاج کے بعد فرحان ملک کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
ایکس پر ’ایرسٹ فرحان ملک‘ ٹاپ ٹرینڈ میں کی جانے والی پوسٹس میں الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ فرحان ملک مبینہ طور پر غیر ملکی، خصوصاً بھارتی بیانیے کو مالی مفاد کے لیے فروغ دے رہے ہیں۔
اردو زبان میں کئی پوسٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی دفاع سے متعلق جھوٹے دعوے پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ایسی سرگرمیوں کو آزادیٔ صحافت کے نام پر قبول نہ کیا جائے۔
تاحال 2026 میں فرحان ملک کے خلاف کسی نئے وارنٹ گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ حکام نے سوشل میڈیا پر چلنے والی اس مہم پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ ’رفتار‘ کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ صورتحال بدستور ارتقا پذیر ہے اور وسیع تر سیاسی بے چینی کے تناظر میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔