ملک میں آج سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد اور صارفین ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں،نجی ٹی وی کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیمنٹ کی برآمدات پہلے ہی مسلسل کمی کا شکار ہیں، جو مجموعی طور پر صنعت کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
ٹوپلائن سیکیورٹیز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی فی بوری قیمت میں 30 سے 50 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی قیمتیں مزید بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر گھریلو تعمیرات اور ترقیاتی منصوبوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود دسمبر 2025 کے دوران سیمنٹ کی مجموعی برآمدات میں 20 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، جہاں دسمبر 2025 میں برآمدات 7.14 فیصد کم ہو کر 6 لاکھ 21 ہزار 685 ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ مقدار 6 لاکھ 69 ہزار 461 ٹن تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران شمالی خطے میں قائم سیمنٹ فیکٹریوں سے ایک بھی ٹن سیمنٹ برآمد نہیں کیا جا سکا، جو اس شعبے کے لیے ایک غیر معمولی صورتحال قرار دی جا رہی ہے۔
اسی طرح مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ یعنی جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران بھی شمالی خطے سے سیمنٹ کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اس مدت میں برآمدات 18.53 فیصد کم ہو کر 8 لاکھ 8 ہزار 506 ٹن تک محدود رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں شمالی خطے سے 9 لاکھ 92 ہزار 413 ٹن سیمنٹ برآمد کیا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک جانب برآمدات میں کمی اور دوسری جانب مقامی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو اس سے سیمنٹ انڈسٹری کے ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔