وفاقی حکومت نے سینیٹ اجلاس کے دوران تسلیم کیا ہے کہ موبائل فون آپریٹرز نے موجودہ مالی سال کے دوران اپنے ماہانہ پیکجز کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ یہ اعتراف وزیرِ اطلاعات و ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے ایوانِ بالا میں کیا گیا۔
وزیرِ مملکت شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ کو بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر اس وقت شدید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث موبائل فون پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2021 سے مئی 2024 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں 158 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی عرصے میں مہنگائی کی شرح 77 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 44 فیصد کمزور ہوا، جس سے ٹیلی کام آپریٹرز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
وزیر نے مزید بتایا کہ پالیسی ریٹ میں 214 فیصد اضافہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں موبائل فون کمپنیوں کی فنانسنگ لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل آپریٹرز نے اپنے ماہانہ پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔
یہ انکشاف وزیرِ مملکت کی جانب سے سینیٹر رانا محمود الحسن کے سوال کے تحریری جواب میں سامنے آیا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے اس تاثر کی تردید کی کہ کسی ماہانہ موبائل پیکج کی قیمت 600 روپے سے بڑھ کر 1500 روپے ہو گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو اس نوعیت کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ موبائل فون آپریٹرز نے اپنے ماہانہ پیکجز کی قیمتوں میں بتدریج طور پر 20 سے 50 فیصد تک اضافہ کیا ہے، جس میں مالی سال 2024-25 کے دوران بعض پیکجز کی قیمتوں میں 999 روپے سے 1499 روپے اور 1500 روپے سے بڑھا کر 1799 روپے تک اضافہ شامل ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ کو مزید آگاہ کیا کہ ان بڑھتی ہوئی لاگتوں کے باوجود موبائل ٹیلی کام انڈسٹری کی اوسط سالانہ ریونیو گروتھ گزشتہ پانچ سالوں میں صرف 9 فیصد رہی، جبکہ 2020 سے 2024 کے دوران اوسط سالانہ مہنگائی کی شرح 17 فیصد رہی۔ ان کے مطابق اس واضح عدم توازن کے باعث موبائل ٹیلی کام انڈسٹری کی مجموعی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ریگولیٹری منظوریوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر نے بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 اور موبائل ٹیرف ریگولیشنز 2025 کے تحت جن موبائل آپریٹرز کو سائنفیکنٹ مارکیٹ پاور (SMP) رکھنے والا قرار دیا جاتا ہے، انہیں ٹیرف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے پیشگی منظوری لینا لازم ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ جاز کو ریٹیل موبائل ٹیلی کام مارکیٹ میں SMP آپریٹر قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس کے تمام ٹیرف PTA کی منظوری سے مشروط ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر دیگر موبائل آپریٹرز کے ٹیرف صارفین کے مفادات کے خلاف ہوں تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس مداخلت کا مکمل اختیار موجود ہے۔