اڈیالہ کے باہر فوٹو سیشن، احتجاج سے پہلے غائب،جنید اکبر کارکنان کی تنقید کی زد میں، ’’بھگوڑا‘‘ قرار

اڈیالہ کے باہر فوٹو سیشن، احتجاج سے پہلے غائب،جنید اکبر کارکنان کی تنقید کی زد میں، ’’بھگوڑا‘‘ قرار

پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر اور رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر اپنے ہی پارٹی کارکنان کی شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پارٹی کارکنان کی جانب سے انہیں ’’بھگوڑا‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب جنید اکبر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں قید کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 90 روز سے انہیں اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

تاہم ان کے اس بیان کے بعد پارٹی کارکنان کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، متعدد کارکنان نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کی تنہائی پر اتنا ہی مؤقف مضبوط ہے تو پھر عملی اقدامات کیوں نظر نہیں آ رہے؟

یہ بھی پڑھیں :پشاور میں پی ٹی آئی کا احتجاج ناکام، کارکنوں نے جنید اکبر کو تقریر کرنے سے روک دیا

ایک کارکن نے ایکس پر لکھایہ ہیں کے پی کے کے تنظیمی صدر۔ کل شام 4:13 پر اڈیالہ جیل کے باہر آئے، ریلی شروع ہونے سے پہلے ہی غائب ہو گئے صرف تین افراد کے ساتھ آئے تھے۔
کارکنان کا مؤقف ہے کہ جنید اکبر کو علی امین گنڈاپور کی جگہ صوبائی صدارت اس لیے دی گئی تھی کہ وہ میدان میں متحرک کردار ادا کریں گے، مگر وہ صرف اڈیالہ جیل کے باہر مختصر حاضری لگا کر واپس چلے جاتے ہیں۔

شاہد خٹک نامی صارف نے لکھا کہ “خان صاحب کو تنہائی میں ڈالنے پر صوبہ بند کیا جانا چاہیے، لیکن جنید اکبر اس اہم معاملے پر خاموش ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے واضح کر دیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی جنید اکبر کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کارکنان عملی جدوجہد کی کمی پر ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *