پاکستان کی آئی ایس ایف میں شمولیت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

پاکستان کی آئی ایس ایف میں شمولیت سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

 سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ مل کر انٹرنیشنل سکیورٹی فورس میں شامل ہو گیا ہے اور مبینہ طور پر اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کیا جائے گا ۔اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے یہ تمام دعوے حقائق کے برعکس اور مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔

حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی دفترِ خارجہ نے واضح طور پر ان دعوؤں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات میں کوئی صداقت نہیں، پاکستان نے نہ تو اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی کسی ایسی دستاویز پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرے گا ۔.

بورڈ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر فوجی دستے بھیجنے یا کسی جنگی کارروائی میں حصہ لینے کی کوئی لازمی شرط موجود نہیں۔
چارٹر کے آرٹیکل کے تحت رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی قوانین کے مطابق امن سے متعلق سرگرمیوں میں تعاون کریں، تاہم اس میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی رکن ریاست اپنی رضامندی کے بغیر کسی مخصوص مشن میں حصہ لینے کی پابند نہیں۔

پاکستان کا مؤقف
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان کا کردار اس بورڈ میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافے اور تعمیرِ نو کی حمایت تک محدود ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت کی جا رہی ہیں۔

 

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کوئی فوجی دستہ غزہ نہیں بھیجے گا اور اس کی شمولیت مکمل طور پر سفارتی اور انسانی بنیادوں پر ہے۔
پاکستان اس حوالے سے سعودی عرب، مصر اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ فلسطینی عوام کو فوری ریلیف اور طویل المدتی امن میسر آ سکے۔

بورڈ کے اصل اختیارات کیا ہیں؟

بورڈ کے چارٹر کے آرٹیکل 1 کے مطابق اس کا مقصد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام، قانونی حکمرانی اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے۔
اگرچہ ابتدا میں اس کی توجہ غزہ کی تعمیرِ نو پر مرکوز تھی، تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اس کے دائرۂ کار کو عالمی تنازعات تک بڑھانے کی بات کی گئی جس سے بعض حلقوں میں اسے اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔

چارٹر میں اقوامِ متحدہ کا براہِ راست ذکر نہیں، تاہم نومبر 2025 میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے اس بورڈ کو غزہ کے لیے 2027 تک محدود مینڈیٹ دیا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ نے ماضی میں اقوامِ متحدہ پر تنقید کی، لیکن بعد میں یہ وضاحت بھی کی کہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا نہ کہ اس کی جگہ لے گا۔

یہ درست ہے کہ پاکستان اور اسرائیل دونوں اس بورڈ کے رکن ہیں، لیکن یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے دونوں ممالک اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں میں ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔اس کا مطلب بالواسطہ اور کثیرالجہتی سطح پر بات چیت ہے، نہ کہ براہِ راست سفارتی یا دوطرفہ تعلقات۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور کسی قسم کے براہِ راست تعاون کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا دعویٰ  جھوٹا اور گمراہ کن ہے،پاکستان کا کردار واضح، محدود اور انسانی بنیادوں پر ہے اور اس کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *