ملک کے مختلف شہروں اور بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش اور پہاڑوں پر وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں تک برقرار رہنے کا امکان ہےجبکہ متعدد علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں تیزہواؤں کے ساتھ بارش ریکارڈ کی گئی، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن اوراطرافی علاقوں میں بارش کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا۔
نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں،دوسری جانب جڑواں شہروں اسلام آباد اورراولپنڈی میں مسلسل بارش کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
مختلف شاہراہوں پر دباؤ بڑھنے کے پیش نظر اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران فیلڈ میں موجود رہے اور شہریوں کو اضافی وقت کے ساتھ سفر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو ہیلپ لائن 1915 یا 15 پر رابطے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔ میانوالی، رائیونڈ اور گردونواح میں بھی بارش سے موسم سرد ہو گیا،کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارش گندم کی فصل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ بعض علاقوں میں بارش کے باعث لیسکو کے متعدد فیڈرز ٹرپ ہو گئے جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
بالائی علاقوں میں صورتحال مزید سخت ہو گئی ہے مری، لواری ٹنل، چترال، وادی نیلم، کالاش، لاسپور اور تیراہ میں برفباری جاری ہے۔ لواری ٹنل اور اپروچ روڈ پر اب تک پانچ انچ برف پڑ چکی ہے، جبکہ این ایچ اے کی مشینری برف ہٹانے میں مصروف ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے، وادی نیلم میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گر گیا ہے جہاں کیل میں منفی 10 اور تاؤبٹ میں منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ، زیارت، خوجک پاس، قلات، پشین اور چمن میں بھی بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ قلات میں موسم سرما کی پہلی برفباری ریکارڈ کی گئی جس سے شہری خوشی سے نہال ہو گئے۔
شدید موسمی حالات کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور ایس ڈی ایم اے نے الرٹس جاری کر دیے ہیں۔ادھر خیبر پختونخوا میں بارش کے باعث پیسکو ریجن کے مختلف علاقوں میں 35 فیڈرز ٹرپ ہو گئے، بحالی کا کام جاری ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کے باعث درجہ حرارت میں مزید کمی کا امکان ہے، لہٰذا عوام اور سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔