اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں سال 2026 کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم معاشی اشاریوں، مہنگائی کے رجحانات، مالی و بیرونی کھاتوں کی صورتحال اور مستقبل کی معاشی سمت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو ساڑھے دس فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کا اطلاق فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو غذائی اجناس میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں، درآمدی دباؤ اور مجموعی معاشی سرگرمیوں سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جو بیرونی شعبے میں استحکام اور مالی نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں اضافے اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے اثرات پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اندرونی انتظامی اور پالیسی نوعیت کے امور پر بھی گفتگو ہوئی کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مہنگائی کے ممکنہ دباؤ، عالمی مالیاتی حالات اور ملکی معیشت کی نازک بحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط اور متوازن پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں شرحِ سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا موزوں قرار دیا گیا تاکہ قیمتوں کے استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو بھی سہارا دیا جا سکے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اجلاس کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ درآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں مہنگائی سات فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، جس کے پیش نظر پالیسی فیصلے میں احتیاط برتی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی کھاتوں میں آنے والی تبدیلیوں کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی بہاؤ کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، اور مانیٹری پالیسی نے مجموعی مہنگائی کے منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔