تیراہ کا علاقہ جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے طویل عرصے سے دہشت گردی کا ایک بڑا گڑھ بنا رہا، جہاں متعدد ہائی پروفائل دہشت گردانہ واقعات پیش آئے۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک وسیع دہشت گردی اور جرائم پر مبنی گٹھ جوڑ قائم ہوا، جس کے روابط افغان طالبان اور منشیات کے نیٹ ورکس سے جا ملے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس گٹھ جوڑ کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں علاقے میں سیاسی دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کی بدترین مثال سامنے آئی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جاتے رہے، تاہم دہشت گردوں کی آبادی والے علاقوں میں موجودگی کے باعث کولیٹرل ڈیمیج ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ بے گناہ جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے تیراہ کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ قبائلی عمائدین کے متعدد جرگے منعقد کیے گئے، جن میں دہشت گردوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خاتمے کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
جرگوں کے دوران مقامی مشران کو اپنی مرضی کا حل تجویز کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا۔ اس عرصے میں مشران نے تیراہ میں مقیم خوارج سے رابطہ کر کے انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ متوقع IBOs کے دوران کولیٹرل ڈیمیج سے بچا جا سکے، تاہم خوارج نے اس درخواست کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ اس کے بعد مشران نے مقامی حکومت سے رجوع کرتے ہوئے یہ آپشن پیش کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران وہ خود عارضی طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کریں گے۔
ابتدائی مشاورت کے بعد صوبائی سطح پر بھی تسلسل کے ساتھ جرگے منعقد ہوئے اور 26 دسمبر 2025 کو مشران نے اپنے مطالبات صوبائی حکومت کے سامنے رکھے، جس میں علاقہ خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ یہ فیصلہ قابلِ ذکر طور پر خود جرگے کی جانب سے کیا گیا، جس کی بنیاد پر صوبائی حکومت نے تیراہ کے عوام کی نقل مکانی کے لیے چار ارب روپے کی منظوری دی۔ تاہم حکومتی سطح پر اس رقم کے مؤثر اور منصفانہ استعمال میں ناکامی کے باعث پورا عمل بدانتظامی کا شکار ہوا اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے کبھی بھی نقل مکانی کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ مقامی آبادی کے خدشات کے پیش نظر اسے ایک آپشن کے طور پر پیش کیا گیا، جسے مقامی لوگوں نے خود منتخب کیا۔ باغ میدان کے علاقے سے 19 ہزار خاندانوں کی نقل مکانی طے تھی، جن میں سے اب تک 65 فیصد خاندان منتقل ہو چکے ہیں جبکہ 35 فیصد تاحال تیراہ میں موجود ہیں۔ اس عمل کے لیے کوئی ٹائم لائن سیکیورٹی فورسز نے مقرر نہیں کی بلکہ یہ فیصلہ بھی مقامی مشران نے اپنی ضروریات، خصوصاً فصلوں کی کٹائی، کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر آپریشن کبھی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا اور IBOs ایک آزمودہ حکمتِ عملی کے تحت جاری ہیں۔ صرف 2025 میں 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن کے نتیجے میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ تیراہ میں آپریشنز “باغ جوائنٹ ایکشن پلان (BJAP)” کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس میں کائنیٹک اور نان کائنیٹک اقدامات کے ذریعے مستقل امن، سماجی و معاشی ترقی، اور بے گھر افراد کی واپسی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، مقامی مشران کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت اور پاک فوج کے خلاف ایک منظم بیانیہ اختیار کیے جانے کا الزام سامنے آیا ہے۔ الزام کے مطابق نقل مکانی کے عمل کو دانستہ بدانتظامی کا شکار بنا کر عوامی مشکلات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر من گھڑت اور اشتعال انگیز بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔