وزیروں اور مشیروں نے رواں سال کتنی تنخواہیں اور کتنا پیٹرول لیا؟ تفصیلات نے سب کو حیران کر دیا

وزیروں اور مشیروں  نے رواں سال کتنی تنخواہیں اور کتنا پیٹرول لیا؟ تفصیلات نے سب کو حیران کر دیا

وفاقی وزراء ، وزراء مملکت اور معاونین خصوصی نے رواں مالی سال اپنے مختص کردہ بجٹ کا تقریباً 59 فیصد استعمال کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے ارکان، مشیران اور معاونین خصوصی نے اب تک 40 کروڑ روپے وصول کیے ہیں، جبکہ تنخواہوں اور الاؤنس کی مد میں 69 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

 وزراء کے لیے مختص 50 کروڑ روپے میں سے 31 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، معاونین خصوصی کے لیے مختص 11 کروڑ روپے میں سے 6 کروڑ روپے استعمال ہو چکے ہیں، اور مشیروں کے لیے مختص 6 کروڑ روپے میں سے 2.5 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، کابینہ اراکین، معاونین خصوصی اور مشیران نے الاؤنس کی مد میں 66 لاکھ روپے بھی وصول کیے ہیں، جو تنخواہوں کے علاوہ ہیں۔

اس کے علاوہ، وزراء، معاونین اور مشیروں کے لیے سو سے زائد گاڑیوں پر 26 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جو تنخواہوں اور الاؤنس سے الگ ہیں۔ اس رقم میں گاڑیوں کی ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی اہلکاروں کے لیے فیول کا خرچ بھی عوامی سطح پر ایک قابل ذکر مالی بوجھ ہے۔

پاکستان میں کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ عوام کے ٹیکس کے ذریعے مختص کیے گئے بجٹ کا بعض اوقات غیر متوازن استعمال ہوتا ہے، اور بعض اوقات حکومتی اہلکاروں کے ذاتی اخراجات کی تفصیلات منظر عام پر آتی ہیں۔ ایسے واقعات میں اکثر یہ سامنے آتا ہے کہ تنخواہوں اور الاؤنس کے علاوہ پیٹرول اور گاڑیوں کے اخراجات پر بھی لاکھوں یا کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جس پر عوامی حلقے سوالات اٹھاتے ہیں اور شفافیت کے لیے اقدامات کی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔

editor

Related Articles