بیرونِ ملک سے گاڑیاں درآمد کرنے والے شہریوں کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایک اہم اور سہولت بخش فیصلہ کرتے ہوئے مقامی مجاز ایجنٹس اور ڈیلرز کا کردار ختم کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سےاس حوالے سے ترمیمی کسٹمز جنرل آرڈر جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد گاڑی درآمد کرنے والوں کو اب مقامی ایجنٹس سے قیمت کا سرٹیفکیٹ لینے یا انہیں کسی قسم کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایف بی آر کے مطابق اس سے قبل درآمد کنندگان کو مجاز ایجنٹس یا ڈیلرز سے گاڑی کی قیمت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا تھا، جس کی بنیاد پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کا تعین کیا جاتا تھا۔ اس طریقہ کار کے باعث نہ صرف اضافی فیس وصول کی جاتی تھی بلکہ بعض اوقات امپورٹرز کو بلیک میلنگ کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نئے احکامات کے تحت اب گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کمپنی کی آفیشل قیمت یا مستند عالمی ریفرنس ویلیو کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی، جس سے ٹیکس نظام میں شفافیت آئے گی اور امپورٹرز کو غیرضروری مشکلات سے نجات ملے گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام درآمدی لگژری گاڑیوں پر انڈر انوائسنگ اور ٹیکس چوری کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ خاص طور پر یورپی لگژری اور استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے شعبے میں اس فیصلے کے نمایاں اثرات متوقع ہیں، جہاں ماضی میں قیمتوں میں رد و بدل کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف کسٹمز نظام کو جدید اور شفاف بنایا جا سکے گا بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر شہریوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا جو طویل عرصے سے مقامی ڈیلرز کی اضافی فیسوں اور غیر ضروری رکاوٹوں کی شکایات کرتے آ رہے تھے۔
ماہرین کے نزدیک ایف بی آر کا یہ اقدام درآمدی گاڑیوں کے نظام میں ایک مثبت اصلاح تصور کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت، آسانی اور ٹیکس وصولی میں بہتری آئے گی۔