فلور ملز کا تعاون، تاریخ میں پہلی بار سب سے سستا آٹا دستیاب

فلور ملز کا تعاون، تاریخ میں پہلی بار سب سے سستا آٹا دستیاب

کراچی میں تاریخ میں پہلی بار پورے ملک کے مقابلے میں سب سے سستا آٹا دستیاب ہو رہا ہے، جس سے شہریوں کو مہنگائی کے دباؤ میں نمایاں ریلیف ملا ہے۔ شہر میں اس وقت ایکس مل ڈھائی نمبر آٹا 114 روپے فی کلو جبکہ فائن آٹا 125 سے 126 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جو ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمت ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتیں 142 سے 145 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ وہاں ڈھائی نمبر فائن آٹا150 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح پشاور میں آٹا 150 سے 160 روپے فی کلو میں دستیاب ہے، جبکہ کوئٹہ میں بھی آٹے کی قیمت 150 روپے فی کلو تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

سندھ حکومت اور فلور ملز کی مشترکہ حکمتِ عملی کامیاب

میڈیا رپورٹ کے مطابق چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون عبدالجنید عزیز نے آٹے کی قیمتوں میں کمی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان مربوط حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے، جس کے باعث کراچی میں آٹے کی قیمتیں ملک بھر میں کم ترین سطح پر برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دُنیا کرکٹ سے بڑی خبر، بھارت کی مشکلات بڑھ گئیں، ایک اور ملک بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہوگیا

عبدالجنید عزیز کے مطابق آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے گندم کی مسلسل فراہمی، ملز کی بروقت پیداوار اور سپلائی چین کو مؤثر بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو سستے آٹے کی دستیابی یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

طلب اور رسد میں توازن، قلت کا خدشہ نہیں

چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون نے مزید کہا کہ طلب اور رسد کے مطابق آٹے کی سپلائی کو برقرار رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں کہیں بھی آٹے کے حصول کے لیے شہریوں کی لمبی قطاریں نظر نہیں آ رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلور ملز اور حکومت سندھ مل کر صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت یا مصنوعی مہنگائی کو روکا جا سکے۔

واضح رہے کہ کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں یہ کمی نہ صرف شہریوں کے لیے خوش آئند ہے بلکہ یہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سندھ اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس قیمت کو طویل مدت تک برقرار رکھا جائے۔

Related Articles