امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے فوری طور پر کسی نئے معاہدے پر رضامندی ظاہر نہ کی تو اسے فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ کارروائی ماضی کی تمام کارروائیوں سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگی، یہ انتباہ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک تفصیلی پیغام میں دیا۔
اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کا ایک بڑا، جدید اور انتہائی طاقتور بحری بیڑا ایران کی سمت پیش قدمی کر رہا ہے ، یہ بحری بیڑا مکمل تیاری، غیر معمولی رفتار اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اپنے مؤقف پر پوری طرح سنجیدہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فوجی نقل و حرکت ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ مزید تاخیر کے بغیر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائےتاہم وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے اور یہ معاملہ اب غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل بھی ایران کو معاہدے کا موقع فراہم کیا گیا تھا، مگر انکار کے نتیجے میں امریکا نے “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” جیسی کارروائی کی جس سے ایران کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔
اگر ایران نے اس مرحلے پر بھی معاہدہ کرنے سے انکار کیا تو آئندہ کارروائی اس سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہو سکتی ہے، جس کے نتائج ایران کے لیے طویل المدت اور سنگین ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر یہی ہے کہ اس صورتحال کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکا جائے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا رابطے کی خبروں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایران نے مذاکرات کی کوئی خواہش ظاہر کی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگرچہ چند ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ایران کا مؤقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ دھمکیوں، دباؤ اور ناجائز مطالبات کے سائے میں کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔