سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ملازم کو غلط طور پر برطرف کرنے کی صورت میں وہ اپنی تمام پچھلی تنخواہوں اور واجبات کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ دورانِ برطرفی تنخواہ روکنا آئین کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ عمل ایک آئینی جرم کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں تمام بقایا جات کی ادائیگی کا حقدار قرار دے دیا اور متعلقہ محکمے کو ایک ماہ کے اندر واجبات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 9 صرف زندگی ہی نہیں بلکہ باعزت روزگار کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اب نظام کو حاکمیت کے بجائے جواز اور قانون کے مطابق چلایا جائے گا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران کو اپنے فیصلوں کے لیے معقول اور منطقی جواز فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ صوابدیدی اختیارات ایک امانت ہیں جنہیں ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ غیر منصفانہ اور من مانے فیصلوں پر عدالتی مداخلت ناگزیر ہوگی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی ملازم یہ مؤقف اختیار کرے کہ وہ برطرفی کے باعث بیروزگار رہا تو اسے بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا، بلکہ ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کی ذمہ داری متعلقہ محکمے پر عائد ہوگی۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ نظام کی خامیوں یا طویل عدالتی کارروائیوں کا بوجھ کسی غریب ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کر دیا تھا، جسے اب سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔