عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں نظر آرہے ہیں جہاں ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں یکمشت 21 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک کی تاریخ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں سب سے بڑا 21 ہزار 200 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 18 ہزار 175 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 91 ہزار 136 روپے ہوگئی ہے۔
عالمی بازار میں سونے کی قیمت 212 ڈالرز کے اضافے کے بعد 5505 ڈالرز فی اونس ہے ، ایسوسی ایشن کے اعلامیے کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 264 روپے اضافے سے 12 ہزار 175 روپے ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2026 میں سونے کا بھاؤ 115900 روپے بڑھ چکا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں 21 ہزار 100 کا اضافہ ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی مارکیٹس میں عدم استحکام کے باعث سرمایہ کار سونے اور چاندی کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے ان کی خریداری میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ اور صارفین پر مرتب ہوں گے۔
دنیا بھرمیں سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکا پہلے نمبر پرہے جبکہ ایشیا میں یہ اعزاز چین کے پاس ہے، بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اورایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، پاکستان عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، جرمنی اور اٹلی سونے کے ذخائر کے حوالے سرفہرست ہیں، ایشیاء میں چین اور بھارت سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتے ہیں ، ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدااور پچھلی دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔