اسلام آباد میں ہائی الرٹ، انتظامیہ کی ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری

اسلام آباد میں ہائی الرٹ، انتظامیہ کی ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرتے ہوئے شہر میں پبلک اور بھاری ٹرانسپورٹ کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’ڈی سی ‘ اسلام آباد کی جانب سے جاری ٹویٹ کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی بھاری ٹرانسپورٹ یا بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکمِ ثانی شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا مثبت کردار، وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل کو بہت زیادہ کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، جے ڈی وینس

ڈسٹرکٹ آفیسر (ڈی سی ) اسلام آباد کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ٹویٹ کے مطابق جڑواں شہروں کو ملانے والا اہم ترین بس ٹرمینل ‘فیض آباد’ بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جو ممکنہ طور پرتاحکم ثانی غیر فعال رہے گا۔

انتظامیہ نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

19 اپریل 2026 کو سامنے آنے والے اس انتظامی فیصلے کا مقصد اسلام آباد کو ایک محفوظ جگہ کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی حساس مذاکرات کے لیے پرامن اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اپریل کے آغاز میں اسلام آباد میں ہوا تھا، جس میں جنگ بندی کے حوالے سے اہم نکات پر بات چیت کی گئی تھی۔ اگرچہ پہلا دور کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوا، تاہم پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے باعث دونوں فریقین ایک بار پھر اسلام آباد میں میز پر بیٹھنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دوسرے دور کے لیے پاکستان کی میزبانی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔

پاکستان اس وقت دنیا کی نظروں میں ایک ناگزیر ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اسلام آباد انتظامیہ کے یہ حالیہ سخت اقدامات اسی سفارتی مشن کی کامیابی اور غیر ملکی مہمانوں کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *