کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس؟تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑی خبر آگئی

کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس؟تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑی خبر آگئی

تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار افراد پر عائد ٹیکس کی شرح سے متعلق حکومتی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ مالی حالات میں مزید ٹیکس ریلیف دینے کی گنجائش موجود نہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں جہاں تک ممکن تھا تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 22 لاکھ روپے یا ماہانہ تقریباً ایک لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کے لیے مزید ٹیکس چھوٹ دینا فی الحال ممکن نہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں اس آمدنی کے زمرے پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کی گئی تھی جبکہ نئے بجٹ میں 22 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کو بھی مختلف ٹیکس سلیبز میں ریلیف دیا گیا ہے۔ حکومت نے ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی نئی شرحیں، یکم جولائی سے اطلاق ہوگا

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ سالانہ ایک کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والوں پر عائد سپر ٹیکس سرچارج ختم کر دیا گیا ہے جبکہ برآمد کنندگان کے لیے بھی یہ سرچارج ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں کے مثبت اثرات معیشت اور روزگار کے مواقع پر مرتب ہوں گے جس کا بالواسطہ فائدہ تنخواہ دار طبقے کو بھی پہنچے گا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے مڈل کلاس پر ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماہانہ ایک سے دو لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد حقیقی مڈل کلاس ہیں اور ان پر 11 فیصد ٹیکس بھی خاصا زیادہ ہے اس لیے حکومت کو مزید کمی پر غور کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر 5ہزار131 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

اسی طرح کمیٹی کی رکن شاہدہ اختر علی نے بھی تنخواہ دار طبقے کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری بڑھتے ہوئے اخراجات اور ٹیکسوں کے بوجھ سے پریشان ہیں لہٰذا حکومت کو اس طبقے کو مزید ریلیف دینا چاہیے۔

تاہم وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے واضح کیا کہ موجودہ مالی صورتحال میں مزید ٹیکس چھوٹ کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر آئندہ مالی سال میں مالی حالات بہتر ہوئے تو مزید ریلیف دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

editor

Related Articles