حکومت نے پاکستان کے قومی شناختی نظام میں اہم اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت موجودہ فنگر پرنٹ پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی نظام کو مرحلہ وار جدید فیس ریکگنیشن سسٹم سے تبدیل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی شناخت کے عمل کو مزید محفوظ بنانا اور مالیاتی فراڈ کے واقعات میں کمی لانا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے فراڈ کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں، خاص طور پر سم کارڈ کے اجراء اور مالی لین دین کے معاملات میں، جس کے باعث قومی شناختی نظام میں اصلاح کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔
نادرا کا بایومیٹرک فنگر پرنٹ سسٹم طویل عرصے سے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں اور مختلف سرکاری اداروں میں شناخت کی تصدیق کا بنیادی ذریعہ رہا ہے، تاہم جرائم پیشہ عناصر نے اس نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی یا کلون شدہ فنگر پرنٹس کا استعمال کیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ فنگر پرنٹ پر مبنی تصدیق کو سنگین سیکیورٹی خدشات کے باعث ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے مالی فراڈ کے متعدد واقعات نے شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق جدید فیس ریکگنیشن سسٹم زیادہ تیز، درست اور شفاف تصدیقی عمل فراہم کرے گا۔ اس نظام کو نادرا، بینکنگ سیکٹر اور ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ مربوط کیا جائے گا، جس سے جعلی شناخت اور غیر مجاز مالی لین دین کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
اس فیصلے پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نے اطمینان کا اظہار کیا، تاہم شہریوں کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ حکام نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ فیس ریکگنیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے جامع قانونی اور تکنیکی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جس کی منظوری کے بعد اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔