بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی نے کہا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی راہ ہموار ہو رہی ہے، اور اس سلسلے میں ایک جامع فریم ورک بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا کہ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو نہایت اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع کے آغاز سے ہی نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے خاموش، متوازن اور نتیجہ خیز سفارتکاری کے ذریعے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطے کو ممکن بنایا بلکہ ایک قابلِ عمل جنگ بندی فریم ورک کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سارے عمل کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان مذاکرات کو “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کا کسی ملک کے دارالحکومت کے نام سے منسوب ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہوتا ہے کہ اس ملک نے اس عمل میں مرکزی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
اگر یہ فریم ورک کامیابی سے عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ اس کے مثبت اثرات پورے خطے اور عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ساکھ ایک ذمہ دار، امن پسند اور مؤثر ثالث کے طور پر مزید مستحکم ہو گی۔
بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی اسی طرح جاری رہیں گی اور ملک عالمی تنازعات کے حل میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔