خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے امن جرگہ کے نام پر بلایا گیا جلسہ ایک بار پھر بری طرح ناکام ہو گیا، جلسے میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی اور مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود پنڈال ویرانی کا منظر پیش کرتا رہا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امن و امان کی صورتحال پر مشاورت کے لیے بلائے گئے اس امن جرگے کا وقت دن 12 بجے مقرر کیا گیا تھا، تاہم دوپہر گزرنے اور وقت میں 3 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے باوجود جلسہ گاہ میں رکھی گئی سینکڑوں کرسیاں خالی پڑی رہیں، پنڈال میں چند درجن افراد بھی جمع نہ ہو سکے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی امن جرگہ میں پہنچنے میں تاخیر کے پاس پنڈال میں آئے لوگ بھی انتظار کے بعد واپس جانے لگے، گراؤنڈ آہستہ آہستہ خالی ہونے لگا۔
خالی میدان اور ویران کرسیاں، عوامی ردعمل کی عکاسی
جلسہ گاہ میں موجود مناظر نے انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا، خالی میدان، سنسان ماحول اور قطار در قطار خالی کرسیاں اس بات کی واضح عکاسی کر رہی تھیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے اس جرگے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
مقامی افراد کا کہنا تھا کہ امن کے نام پر بلائے جانے والے ایسے اجتماعات سے پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا، ان کے مطابق جرگے کا مقصد اور نتائج واضح نہ ہونے کے باعث عوام کی بڑی تعداد نے شرکت سے گریز کیا۔
حکومت کی حکمتِ عملی پر سوالات، سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے
سیاسی تجزیہ کارروں کے مطابق جمرود میں امن جرگے کی ناکامی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی رابطے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل، بالخصوص امن و امان اور معاشی مشکلات، محض علامتی جرگوں سے حل نہیں ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی امن جرگوں اور عوامی اجتماعات میں شرکت کم رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو زمینی حقائق اور عوامی ترجیحات کا درست اندازہ نہیں ہو پا رہا۔
عوامی بے رخی، حکومتی دعوؤں کے برعکس صورتحال
رپورٹ کے مطابق جمرود اور گردونواح میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس امن جرگے کو محض نمائشی اقدام قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ عملی اقدامات کے بغیر ایسے جلسے عوامی اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
جلسہ گاہ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سناٹا مزید گہرا ہوتا گیا اور آخرکار امن جرگہ عوامی عدم دلچسپی کی وجہ سے کسی خاطر خواہ سرگرمی کے بغیر ہی غیر مؤثر ثابت ہوا، جو حکومت کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔