بلوچستان کے علاقے نوشکی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف ایک بڑا اور فیصلہ کن آپریشن کرتے ہوئے ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، کارروائی کے دوران نوشکی شہر اور گردونواح میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان خاران میں بڑی کارروائی، سیکیورٹی فورسز نے فرار کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں کا مکمل صفایا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں دہشتگردوں کی موجودگی اور ان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی تھی، سیکیورٹی فورسز نے منظم انداز میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو گھیرے میں لے کر مؤثر کارروائی کی اور انہیں فرار کا موقع نہیں دیا۔
دہشتگردوں کی پناہ گاہیں تباہ، بڑا نقصان ٹال دیا گیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشکی اور اس کے نواحی علاقوں میں دہشتگردوں کی متعدد پناہ گاہیں موجود تھیں، جہاں سے وہ سیکیورٹی فورسز اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، بروقت کارروائی کے باعث ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر فتنہ الہندستان کے 4 مزید خوارج کو نوشکی میں اتوار کی صبح ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں پاک فوج کے جوان پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگاتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ ’نوشکی میں فتنہ الہندوستان کے کچھ دہشتگرد مختلف جگہوں میں گیدڑوں کی طرح چھپے ہوئے ہیں، جنہیں ایف سی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلاک کر رہی ہے۔
ایف سی جوان پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ہندستان والوسن لو! اگر آپ نے پاکستان کا امن خراب کرنے کی کوششں کی تو آپ کا حال ان سے بھی برا ہو گا۔
موپنگ آپریشن جاری، مکمل کلیئرنس تک کارروائیاں جاری رہیں گی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نوشکی کے مختلف مقامات پر موپنگ آپریشن جاری ہے، جس کے دوران علاقے کو مرحلہ وار کلیئر کیا جا رہا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر فوری ردعمل دیا جائے گا۔
آپریشن کے دوران شہریوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
امن و امان کی بحالی اولین ترجیح
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی ریاست کی اولین ترجیح ہے، دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔