انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے درج مقدمے میں ملزمہ علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے علیمہ خان کی جانب سے دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ’جب تک علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ ڈی فریز نہیں کیے جاتے، وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتیں‘۔
وکیل نے عدالت سے حاضری سے استثنیٰ دینے کی استدعا کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں ملزمہ کی پیشی ممکن نہیں۔
دوسری جانب سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے استثنیٰ کی درخواست کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ’ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں اور نہ ہی عدالتی کارروائی کو ہائی جیک کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عدالت پہلے ہی مقدمے کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلانے کے احکامات جاری کر چکی ہے، تاہم ’ملزمہ کا پہلے دن سے رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا ہے اور وہ مسلسل عدالت میں پیش ہونے سے گریز کر رہی ہیں‘۔
سپیشل پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’جب ملزمہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہو رہیں تو ان کے شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ عدالتی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ’ایس پی راول علیمہ خان کو گرفتار کر کے کل تک عدالت میں پیش کریں‘۔ عدالت نے واضح کیا کہ ’جب تک ملزمہ عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بلاک ہی رہیں گے‘۔
مزید برآں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق آئندہ سماعت پر ملزمہ کی پیشی اور گرفتاری سے متعلق عملدرآمد رپورٹ طلب کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور غیر حاضری کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور کسی بھی ملزم کو قانون سے بالاتر ن