سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار حسن ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ علیمہ خان جلد اڈیالہ جیل کی باسی بننے جا رہی ہیں اور ان کی گرفتاری 8 فروری کے بعد جبکہ رمضان المبارک سے پہلے متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور کیس میں مزید گنجائش باقی نہیں رہی،حسن ایوب کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی گئی،اجلاس کے شرکا کا مؤقف تھا کہ 2013 سے لے کر اب تک کوئی بھی بجٹ مکمل طور پر آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق منظور نہیں کیا گیا جو کہ ایک سنگین آئینی مسئلہ ہے۔
اس تنقید کی بنیاد مضبوط تھی انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عباداللہ ایک مضبوط سیاسی کردار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جبکہ جن امیدواروں سے ان کا مقابلہ ہے وہ نہایت ہوشیار اور متحرک ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ہی صوبے میں سیاسی ریلیاں نکال رہے ہیں ۔
حسن ایوب نے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ایک نئے “بلنڈر بوائے” کی تلاش ابھی سے شروع کر دینی چاہیے کیونکہ ماضی میں سامنے آنے والے اکثر چہرےسوائے پرویز خٹک کے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
حسن ایوب کا کہناتھا کہ اسلام آباد میں ہونے والےتحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایک اور اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ آیا حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں یا نہیں یہ ابھی تک غور ہی کررہے ہیں اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کے درمیان اتحاد ممکن نہیں، کیونکہ ویٹو پاور علیمہ خان کے پاس ہے۔ ان کے مطابق قانونی صورتحال یہ ہے کہ چھ اہم گواہوں پر ابھی کراس ایگزیمنیشن ہونا باقی ہے، جس کے لیے تین سے چار پیشیاں درکار ہیں س کے بعد فیصلہ آنے کا امکان ہے۔
علیمہ خان پر جن الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی، اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم پراسیکیوشن نے 26 نومبر کے مقدمے کو آگے بڑھا کر ایک مضبوط قانونی حکمت عملی اختیار کی،ان کے بقول اب کیس کے “چاروں کونے سل چکے ہیں” اور انسدادِ دہشت گردی کے تحت چلنے والے اس مقدمے میں سزا کے امکانات واضح ہو چکے ہیں اسی تناظر میں انہوں نے دعویٰ دہرایا کیاکہ علیمہ خان کی گرفتاری 8 فروری کے بعد اور رمضان المبارک سے قبل ہو سکتی ہے