لاہور میں بسنت کی آمد کے ساتھ ہی پتنگ بازی سے وابستہ کاروبار میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے پہلے دو روز کی خرید و فروخت کا ڈیٹا جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق ابتدائی دو دنوں میں پتنگوں، گڈوں، گڈیوں اور ڈور کی فروخت نے ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بسنت کے آغاز کے ساتھ ہی شہریوں میں پتنگ بازی کا شوق عروج پر پہنچ گیا ہے، جس کا براہ راست اثر مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں پر پڑا ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق صرف دو روز کے دوران مجموعی طور پر 34 کروڑ روپے کی خرید و فروخت ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق پہلے روز پتنگوں، گڈے گڈیوں اور دیگر متعلقہ سامان کی فروخت 16 کروڑ روپے رہی، جبکہ دوسرے روز یہ حجم بڑھ کر 18 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ دوسرے روز خرید و فروخت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بسنت کے قریب آتے ہی شہریوں کی دلچسپی مزید بڑھ رہی ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق دوسرے روز لاہور میں چھ لاکھ سے زائد گڈے، گڈیاں اور پتنگیں فروخت ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی ڈور، جسے پنا یا پنوکی بھی کہا جاتا ہے۔
اس کی فروخت بھی نمایاں رہی اور ایک ہی دن میں 15 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بسنت سے قبل ابتدائی دنوں کے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں خرید و فروخت کا حجم مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق بسنت کی آمد لاہور میں نہ صرف ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے بلکہ اس سے منسلک کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار اور آمدن کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی دو روز کی فروخت نے اس بات کی نشاندہی کر دی ہے کہ رواں سیزن میں پتنگ بازی کا کاروبار ایک بار پھر نمایاں رہے گا اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔