ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو خطے سے باہر تک پھیلے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ پچھلی جنگ میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کی ہیں ۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو ایران کی نئی علاقائی اور غیر علاقائی صلاحیتیں فعال ہو جائیں گی، اپنی طاقت سوشل میڈیا پر صرف کھوکھلے بیانات میں نہیں، بلکہ میدان جنگ میں دکھائیں گے۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو جنگ میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے کہا تھا کہ ایران میں ممکنہ نئی جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں، ورنہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران پر نئے حملے شروع کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھے، بحری جہاز میزائلوں سے لیس اور دیگر ہتھیار وہاں بھیجے کیلئے تیار تھے۔
یاد رہے کہ ایران نے جنگ بندی کے بدلے امریکا سے پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے، ایرانی حکام کے مطابق تہران اپنی یورینیئم افزودگی روکنے پر تیار نہیں۔
ادھر امریکی وزارتِ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے متعدد کمپنیوں، بحری جہازوں اور مالیاتی نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے تقریباً پانچ ہفتے بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے ، اس دوران اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات بھی ہوئے تاہم بے نتیجہ رہے تھے جبکہ اگلا دور نہیں ہو سکا تھا۔
اس وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی وساطت سے تجاویز کا تبادلہ چل رہا ہے اور کوششیں کی جا رہی ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔