ایران نے میناب اسکول کروز میزائل اڈے پر واقع ہونے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا

ایران نے میناب اسکول کروز میزائل اڈے پر واقع ہونے کے امریکی دعوے کو مسترد کردیا

ایران نے امریکہ کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا کہ میناب میں جس سکول کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا وہ ایک فوجی تنصیب کے قریب واقع تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ امریکی دعویٰ بے بنیاد، من گھڑت اور انتہائی شرمناک جھوٹ ہے۔

انہوں نے کہا امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا یہ بیان کہ شجرہ طیبہ سکول ایک فعال ایرانی کروز میزائل اڈے کے قریب تھا، دراصل 28 فروری کے میزائل حملوں کی حقیقت چھپانے کی کوشش ہے، جن میں 170 سے زائد سکول کے بچوں اور اساتذہ کی شہادت ہوئی۔

ترجمان کے مطابق تعلیمی ادارے کو سکول کے اوقات میں نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور واضح جنگی جرم ہے ، کسی بھی وضاحت کے ذریعے اس مقام کی شہری حیثیت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تباہ کن حملے کا حکم دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے والے امریکی حکام کو بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

قبل ازیں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کی ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالہ سے ’پیچیدہ‘ تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :محسن رضائی کا امریکی پالیسیوں پر سوالیہ نشان، آبنائے ہرمز میں بدامنی پھیلانے والوں کو خبردار کردیا

ایڈمرل بریڈ کوپر نے منگل کو کانگریس کی ایک نگرانی کمیٹی کو بتایا کہ ’یہ اسکول دراصل پاسدارانِ انقلاب کی ایک فعال کروز میزائل بیس کے اندر واقع تھا‘ جس کے باعث اس حملے کی تحقیقات عام حملوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے پہلے روز 28 فروری کو جنوبی شہر میناب میں ہونے والے اس حملے میں 168بچوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔

editor

Related Articles