عالمی یومِ سرطان، پاکستان کے ہر شہری کو علاج کے مساوی مواقع ملنے چاہییں، صدرآصف علی زرداری کا پیغام

عالمی یومِ سرطان، پاکستان کے ہر شہری کو علاج کے مساوی مواقع ملنے چاہییں، صدرآصف علی زرداری کا پیغام

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ سرطان کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج کا دن بحیثیتِ قوم اور عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر سرطان کے خلاف جدوجہد کے لیے مشترکہ عزم کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع نہ صرف اس موذی مرض کی سنگینی کی یاد دہانی کراتا ہے بلکہ اتحاد، جدت اور مسلسل عملی اقدامات کے ذریعے امید کو مضبوط بنانے کا پیغام بھی دیتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں سرطان بدستور اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے، جہاں سالانہ ایک لاکھ آبادی میں اوسطاً 185 نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری آبادی میں تیز رفتار اضافہ، طرزِ زندگی میں منفی تبدیلیاں اور آگاہی کے فقدان نے اس مرض کے بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے، جو فوری اور مربوط اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان قیادت نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی سے غداری کر کے امت مسلمہ کا دل دکھایا ہے، صدر آصف علی زرداری

اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے پاکستان بھر کے وہ خاندان ہیں جو علاج کے لیے طویل فاصلے طے کرنے، تاخیر سے تشخیص کے باعث ذہنی دباؤ اور طویل علاج کے بھاری مالی اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے گھرانوں کے لیے سرطان روزگار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے، جس سے مریضوں کے ساتھ ساتھ تیمارداروں پر بھی شدید دباؤ پڑتا ہے۔

صدر مملکت کے مطابق سرطان سے نمٹنے کا مطلب صرف طبی تکلیف کو کم کرنا نہیں بلکہ عام شہریوں پر پڑنے والے سماجی اور معاشی دباؤ کو کم کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں، صحت کے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جامع قومی سرطان حکمتِ عملی تیاری کے مراحل میں ہے، جس میں بالخصوص بچوں میں سرطان کی روک تھام اور علاج پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سرطان کے بوجھ کا تفصیلی جائزہ لینے اور قومی و صوبائی سطح پر مربوط حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں منتخب سرطان مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت تحقیق اور ڈیٹا سسٹمز کو مضبوط بنا کر سرطان کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے، جہاں ڈیٹا پر مبنی کلینکس تحقیق، پالیسی سازی اور بین ادارہ جاتی تعاون کو ممکن بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات افراد اور خاندانوں پر سرطان کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

مزید پڑھیں:ویانا میں آئی اے ای اے کے سائیڈ ایونٹ میں کینسر کے علاج کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اظہار

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرطان سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے پورے معاشرے کی شمولیت ناگزیر ہے۔ نجی شعبہ، سول سوسائٹی، میڈیا اور کمیونٹی تنظیمیں آگاہی بڑھانے اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ سرطان صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی چیلنج ہے، جس کے لیے بین الشعبہ جاتی اور ہم آہنگ اقدامات درکار ہیں۔

انہوں نے تمباکو نوشی، غیر صحت بخش غذاؤں اور جسمانی غیرفعالیت جیسے قابلِ اجتناب خطرے کے عوامل سے نمٹنے، بروقت تشخیص اور روک تھام کو قومی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون قرار دیا۔

اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے شہریوں، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد، سول سوسائٹی اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ اس مشترکہ مشن میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ سماجی اور معاشی حیثیت سے قطع نظر ہر فرد کو بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور ہمدردانہ نگہداشت تک مساوی رسائی حاصل ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *