وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات طے ہے، تاہم ابھی دن، وقت یا جگہ کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ملاقات اپوزیشن لیڈر کی رہائش گاہ یا کسی اور مقام پر بھی کی جا سکتی ہے، تاہم پارلیمنٹ میں ملاقات کا بھی امکان موجود ہے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، اور دیگر سیاسی رہنماؤں جیسے محمود اچکزئی کی میزبانی میں بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر 8 فروری سے پہلے ملاقات کے دوران اپوزیشن لیڈر کی سیاسی پوزیشن متاثر ہو تو ملاقات بعد میں بھی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی، جس پر اپوزیشن نے سیر حاصل بات چیت کے بعد فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کی دعوت کو غیر مشروط طور پر قبول کیا جائے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ یہ مذاکرات ملک کے سیاسی ماحول میں مثبت پیش رفت کا موقع فراہم کریں گے اور دونوں فریقین کی ذمہ داری ہے کہ بات چیت کے ذریعے اختلافات کم کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت شفاف اور باقاعدہ طریقے سے جاری رہنی چاہیے تاکہ سیاسی بحران سے بچا جا سکے اور عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں۔
رانا ثنا اللہ نے بھی اس موقع پر کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کے تحفظات سن کر ایک تعمیری ماحول پیدا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ہر فریق کو سیاسی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ملاقاتیں دونوں طرف کے اعتماد اور مفاہمت کے لیے اہم کردار ادا کریں گی۔