پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیئر رہنما شفیع جان نے پارٹی کی ہڑتال اور احتجاجی سیاست پر شدید تنقید کرتے ہوئے اپنی ہی قیادت کے خلاف کھل کر آواز بلند کر دی ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان کے سخت اور تلخ ریمارکس نے پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو بے نقاب کر دیا۔
اجلاس کے دوران شفیع جان نے پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کمبل میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ٹویٹ کر کے ہمیں یہ نہ سکھائیں کہ کہاں ہڑتال کرنی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق سے کٹے ہوئے فیصلے کارکنوں کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے احتجاجی سیاست کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’کیا عمران خان کسی چوکی پر قید ہیں کہ ہم وہاں جا کر احتجاج کریں؟ ماضی میں بھی بہت سارے احتجاج کیے گئے، ان کا کیا فائدہ ہوا؟ کوئی فائدہ نہیں ہوا‘۔ شفیع جان کے مطابق بار بار کی ہڑتالوں اور بندشوں سے نہ پارٹی کو فائدہ پہنچا اور نہ ہی کارکنوں کے مسائل حل ہوئے۔
شفیع جان نے پارٹی قیادت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر واقعی آگے بڑھنا ہے تو خیبر پختونخوا سے باہر نکلیں، صرف ایک صوبے تک محدود ہو کر سیاست نہیں چل سکتی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بار خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ بنانا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ نہ سکھایا جائے کہ کون کمپرومائزڈ ہے اور کون نہیں‘۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر لیبل لگانے کی سیاست نے کارکنوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ شفیع جان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’فلاں جگہ بند کریں گے، بند کریں گے تو کیا ہوگا؟ پہلے بھی بند کیا تھا، نتیجہ سب کے سامنے ہے‘۔
پی ٹی آئی رہنما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کچھ عناصر پارٹی کے اندر رہتے ہوئے کسی اور کے مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، اس لیے ہمیں یہ نہ بتایا جائے کہ کیا کرنا ہے‘۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ پارٹی کارکنوں کی اصل توجہ 8 فروری کی ہڑتال پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا فوکس 8 فروری کی ہڑتال ہے، ہمیں اچکزئی کی کال کو فالو کرنا ہے، ان کو یہ ذمہ داری خود عمران خان نے دی ہے‘۔
واضح رہے کہ شفیع جان کے یہ بیانات پی ٹی آئی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی، کارکنوں کی مایوسی اور احتجاجی سیاست سے اکتاہٹ کا واضح اظہار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے زمینی حقائق اور اندرونی آوازوں کو نظرانداز کیا تو پی ٹی آئی کو مزید اندرونی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی کالز پہلے ہی عوامی سطح پر غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں، اور پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی یہ تنقید قیادت کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔