پاکستان کے سائبر سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ’باھوت بلوچ‘ نامی ایکس اکاؤنٹ کو مستقل طور پر معطل کر دیا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان آرمی اور دیگر قومی و سیکیورٹی اداروں کے خلاف مسلسل جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہ اکاؤنٹ اب ایکس پلیٹ فارم پر مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ’باھوت بلوچ‘ نامی یہ ایکس اکاؤنٹ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے ایک منظم سوشل میڈیا نیٹ ورک کا حصہ تھا، جس کا مقصد پاکستان کے اندر سیکیورٹی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینا تھا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اکاؤنٹ بلوچستان میں سرگرم فتنہ الہندوستان، کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی ذیلی تنظیم کالعدم مجید بریگیڈ کی بھرپور آن لائن معاونت اور تشہیر میں ملوث تھا۔
پاکستان کے سائبر سیکیورٹی اداروں نے بھرپور تکنیکی اور انٹیلیجنس کارروائی کے بعد اس اکاؤنٹ کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے شدت پسند بیانیہ پھیلایا جا رہا تھا اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اس وقت کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کو عالمی سطح پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، جس پر نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف متعدد پرتشدد حملوں کا الزام ہے۔
حالیہ معلومات کے مطابق کالعدم بی ایل اے، جو سیکیورٹی حکام کے مطابق بھارت کی ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، کو نئی دہلی اور افغانستان سے مبینہ طور پر بھرپور معاونت حاصل رہی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’باھوت بلوچ‘ کی آن لائن سرگرمیاں اسی نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جن کا مقصد شدت پسند پیغامات پھیلانا اور ایسے افراد سے رابطے میں رہنا تھا جو اس گروہ سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ ’باھوت بلوچ‘ ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے نہ صرف پاکستان مخالف مواد شیئر کیا جاتا تھا بلکہ بی ایل اے کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی، تاکہ عالمی سطح پر رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔
ادھر حکومت پاکستان نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کریں، جن کے بارے میں ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی معاونت، مالی یا نظریاتی حمایت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انتہا پسند نیٹ ورکس کے خلاف مربوط اور فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی آن لائن رسائی اور اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گی۔