’را‘ ایکس اکاؤنٹس سے بلوچستان میں آزادی سے متعلق جعلی تصاویر کا پھیلاؤ، گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

’را‘ ایکس اکاؤنٹس سے بلوچستان میں آزادی سے متعلق جعلی تصاویر کا پھیلاؤ، گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایکس اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ دیکھنے میں آیاہے، ان سرگرمیوں میں پاکستان کے بدنام کرنے سے متعلق تصاویر بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھارتی خفیہ ایجسنی ’را‘ کی جانب سے ایک جعلی تصویر وائرل ہوئی ہے۔ جس سے متعلق آزاد فیکٹ چیک نے تحقیق کے بعد اس تصویر کو وائرل کرنے والے خفیہ اکاؤنٹس کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ کے ایکس ہینڈلر اکاؤنٹ پر امریکا، پاکستان تیل معاہدے پر گمراہ کن پروپیگنڈا، آزاد فیکٹ چیک نے تمام دعوے جھوٹے ثابت کر دیے

آزاد فیکٹ چیک کی تحقیق کے مطابق یہ تصویر بھارت میں قائم ایک ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ تصویر2009  میں بلوچستان کے علاقے خضدار میں پاکستانی پرچم کو سلیوٹ کرتے بچوں کی اصل تصویر کو مسخ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بلوچ عوام پاکستان مخالف مظاہرہ کر رہے ہیں۔

بھارتی خفیہ ایجسنی ’را‘ جعلی اکاؤنٹ سے ایک ایسی خبر بھی شیئر کر رہے ہیں جس میں بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی موجودگی کو ’غیر قانونی فوجی قبضہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایکس اکاؤنٹ پر ’ریپبلک آف بلوچستان‘ کے نام سے جاری کردہ اس بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکا یا کسی بھی تیسرے ملک کے ساتھ بلوچستان سے متعلق کوئی معاہدہ بلوچ عوام کی رضامندی کے بغیر کالعدم اور ناقابل قبول ہے۔

بیان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے عناصر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کا غیر مجاز استحصال کر رہے ہیں، آبادیاتی تناسب کو بگاڑ رہے ہیں، اور مقامی لوگوں کو ان کے حقِ خود ارادیت سے محروم کر رہے ہیں۔ بیان میں 1970 کی دہائی کے اوائل میں سردار عطا اللہ مینگل کی حکومت کا حوالہ بھی دیا گیا۔

مزید پڑھیں:بھارتی خفیہ ایجنسی کا نیا شوشہ: آپریشن سندور اور انڈیا کا نیا نظریہ ڈیٹرنس، کتاب میں اسپیلنگ غلطیوں، پیراگرافس کی تکرار اور غلط اعدادو شمار کی بھرمار

اگرچہ بلوچستان سے متعلق شکایات اور علیحدگی پسند بیانیہ کوئی نئی بات نہیں، آزاد فیکٹ چیک عوام سے اپیل کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مواد کو احتیاط سے پرکھا جائے۔ جس تصویر کو بلوچ مزاحمت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا، وہ اصل میں 2009 کی ایک تصویر ہے جس میں بچے پاکستانی پرچم کو عزت سے سلیوٹ کر رہے ہیں، نہ کہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ماضی میں بلوچستان کے تنازع کو غلط معلومات سے بھڑکاتے رہے ہیں۔ ایک علاقائی تجزیہ کار کے مطابق یہ گمراہ کن مہم عوامی اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور حساس علاقوں میں خطرناک اثرات مرتب کر سکتی ہیں‘۔

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے متعلق سچائی اور تصویر کی اصل نوعیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ بلوچ عوام کی شکایات سنجیدگی سے لی جانی چاہییں، لیکن جعلی تصاویر کا استعمال نہ صرف بحث کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ علاقے میں بداعتمادی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک مستقبل میں بھی بلوچستان سے متعلق جعلی یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کرتا رہے گا تاکہ سچائی سامنے آ سکے اور عوامی رائے سازی میں شفافیت برقرار رہے۔

Related Articles