خیبر پختونخوا لینڈ مافیا کا گھیرا تنگ، جبری قبضہ کرنے والوں کے خلاف نیا قانون لانے کی تیاریاں

خیبر پختونخوا لینڈ مافیا کا گھیرا تنگ، جبری قبضہ کرنے والوں کے خلاف نیا قانون لانے کی تیاریاں

خیبر پختونخوا میں زمینوں پر ناجائز قبضے کے خلاف قانونی اور انتظامی اقدامات فی الوقت وفاقی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبائی پولیس کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت ایک نئے قانون کی تیاری میں مصروف ہے جس کا مقصد منظم ’قبضہ گروپوں‘ کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس وقت زمینوں پر قبضے کے واقعات سے متعلق کوئی جامع ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایک نیا صوبائی قانون تیار کیا جا رہا ہے، جو بڑی حد تک پنجاب حکومت کے نافذ کردہ قانون کی طرز پر ہوگا، البتہ اس میں مقامی حالات کے مطابق کچھ ترامیم بھی شامل کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی سی سی نے پاکستان کے تمام مطالبات مان لیے، بنگلہ دیش سے متعلق بڑا فیصلہ

اس وقت صوبے میں زمینوں پر ناجائز قبضے کے خلاف بنیادی قانونی فریم ورک غیر قانونی تصرف ایکٹ 2005 ہے، جو پورے پاکستان میں نافذ العمل ہے۔ اس قانون کا مقصد جائیداد کے جائز مالکان اور قابضین کو زبردستی یا غیر قانونی قبضے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

قانون کے تحت غیر قانونی قبضے میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ متاثرہ فریق کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ طویل سول مقدمات کے بجائے براہِ راست سیشن کورٹ میں درخواست دائر کر سکے۔ عدالت پولیس کو تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے، جو ایک مقررہ مدت میں مکمل کرنا لازم ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات، خصوصاً مجرمانہ دراندازی اور زبردستی داخلے سے متعلق شقیں بھی ایسے مقدمات میں لاگو کی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تصرف ایکٹ کے تحت دائر مقدمات کا فیصلہ میرٹ پر کیا جائے گا اور مدعی کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ ملزم پیشہ ور قبضہ مافیا کا رکن ہے۔

دیہی علاقوں کی مشترکہ زمین، یعنی شامِلات دہ کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی ضابطے موجود ہیں، جن کے تحت ان زمینوں کی غیر قانونی فروخت یا منتقلی ممنوع ہے۔

انتظامی سطح پر خیبر پختونخوا پولیس نے خصوصاً پشاور میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے جو اسلحہ بردار افراد اور گاڑیوں کے ذریعے زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے شہریوں کو غیر قانونی قبضے کی شکایات درج کرانے کے لیے پاکستان سٹیزن پورٹل پر ایک مخصوص کیٹیگری بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے نجی اور سرکاری زمین پر قبضے کی شکایت براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:کردار، جرأت اور قابلیت، یہی پاکستانی سپاہی کی پہچان ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں سرکاری زمین، بشمول پارکس اور جنگلات، کو نجی افراد اور ڈیویلپرز سے واگزار کرانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

حکومت نے جائیداد مالکان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، جن میں محکمہ مال میں زمین کے ریکارڈ کی بروقت تکمیل، جائیداد کے گرد چار دیواری کی تعمیر، باقاعدہ نگرانی اور خریداری سے قبل مستند اداروں کے ذریعے ملکیت کی تصدیق شامل ہے۔

اگرچہ غیر قانونی تصرف ایکٹ 2005 اس وقت بنیادی قانون ہے، تاہم عملدرآمد میں تاخیر، کمزور نفاذ اور مبینہ بدعنوانی جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انہی خدشات کے باعث دیگر صوبوں کی طرز پر خیبر پختونخوا میں بھی ایک زیادہ سخت اور جامع صوبائی قانون متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق زیرِ تیاری قانون کا مقصد ان خامیوں کو دور کرنا اور خیبر پختونخوا میں منظم قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *