نادرا صارفین کیلئے خوشخبری، نیا آن لائن سسٹم، دفاتر کے چکر ختم،تفصیلات جانیے

نادرا صارفین کیلئے خوشخبری، نیا آن لائن سسٹم، دفاتر کے چکر ختم،تفصیلات جانیے

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستانی شہریوں کے لیے شکایات درج کرانے اور شناختی دستاویزات سے متعلق درخواستوں کی آن لائن نگرانی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔

نادرا کے مطابق اب شہری گھر بیٹھے نہ صرف اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں بلکہ ان کی پیش رفت بھی باآسانی معلوم کر سکتے ہیں۔

نادرا کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے لیے شکایات کے اندراج کی سہولت چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ موبائل صارفین نادرا سے رابطے کے لیے +9251111786100 پر کال کر سکتے ہیں جبکہ ہیلپ لائن 1777 کے ذریعے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ شکایت درج کرانے کے بعد شہریوں کو تصدیقی پیغام موصول ہوتا ہے تاکہ انہیں درخواست کے اندراج کی تصدیق ہو سکے۔

نادرا نے اپنی ڈیجیٹل خدمات کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے شہری شناختی کارڈ میں ترمیم، تجدید اور دیگر متعلقہ سہولیات کے لیے گھر بیٹھے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو نادرا دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے سے بچانا اور وقت کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔

نادرا کے مطابق پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواست کے بعد شہری اپنی شناختی دستاویز گھر پر یا قریبی نادرا مرکز سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آن لائن طریقہ کار نہ صرف آسان بلکہ تیز تر بھی ہے، جس سے درخواستوں کے عمل میں شفافیت پیدا ہو رہی ہے۔

درخواست کی نگرانی کے حوالے سے نادرا نے بتایا ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ میں موجود ٹریکنگ ٹیب کے ذریعے شہری اپنی رسید پر درج ٹریکنگ آئی ڈی اور کوڈ درج کر کے فوری طور پر درخواست کی موجودہ صورتحال جان سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہری 1777 پر کال کر کے یا اپنا ٹریکنگ آئی ڈی 8400 پر بھیج کر بھی اپنی درخواست سے متعلق تازہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ان سہولیات کا مقصد شہریوں کو شناختی خدمات تک آسان اور براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ درخواست، نگرانی اور دستاویزات کی وصولی کا عمل زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ نادرا نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور دفاتر میں رش اور تاخیر سے بچنے کے لیے آن لائن طریقہ کار کو ترجیح دیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *