ایک سال بعد بڑا فیصلہ، اختر مینگل رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں

ایک سال بعد بڑا فیصلہ، اختر مینگل رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بلوچستان نیشنل پارٹی ‘مینگل’ کے سربراہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے، جو ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل جمع کرایا گیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد بلوچستان کی سیاست میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

اختر مینگل نے عام انتخابات میں حلقہ این اے 256 خضدار سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ تاہم ان کا استعفیٰ طویل عرصے تک زیر التوا رہا اور ایک سال 5 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اسے منظور کیا گیا ہے۔

یہ پڑھیں:بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے استعفیٰ کی منظوری سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان ‘ای سی پی’ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق اب الیکشن کمیشن اس نشست کو خالی قرار دے کر ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کرے گا۔ الیکشن ایکٹ کے تحت مقررہ مدت کے اندر خالی نشست پر انتخاب کرانا لازم ہوتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اختر مینگل کا استعفیٰ اور اس کی تاخیر سے منظوری بلوچستان کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ سیاسی صف بندیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبے میں مختلف جماعتیں اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہیں۔

واضح رہے کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کی سیاست میں ایک اہم اور بااثر رہنما سمجھے جاتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی وفاقی حکومتوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کی جماعت بی این پی ‘مینگل’ صوبے میں قوم پرست سیاست کی نمایاں آواز تصور کی جاتی ہے۔

استعفیٰ منظور ہونے کے بعد اختر مینگل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا وہ آئندہ ضمنی انتخاب میں دوبارہ حصہ لیں گے یا کسی نئی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

اس فیصلے کے بعد این اے 256 خضدار کی نشست باضابطہ طور پر خالی ہو گئی ہے اور اب تمام نظریں الیکشن کمیشن پر مرکوز ہیں جو آئندہ چند روز میں انتخابی شیڈول جاری کر سکتا ہے۔ خضدار کے سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے جبکہ مختلف جماعتیں ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر غور شروع کر چکی ہیں۔

بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ پیش رفت اہم قرار دی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *