لاہور میں منعقد ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس ہر سال کی طرح اس بار بھی بحث و مباحثے کا مرکز بنی رہی۔ بظاہر یہ کانفرنس انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے منعقد کی جاتی ہے ۔
ناقدین کے نزدیک اس پلیٹ فارم پر بعض اوقات یک طرفہ بیانیہ اور سیاسی رنگ غالب آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد قومی سطح پر ایک نئی بحث جنم لیتی ہے کیا یہ فورم متوازن مکالمے کا عکاس ہے یا مخصوص زاویۂ نظر کو تقویت دیتا ہے؟
حالیہ کانفرنس کے تناظر میں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا یہ بیان زیرِ بحث آیا کہ ’’75 سال ہم 4 ضلعوں کی فوج کو پاکستان کی فوج مان رہے ہیں۔ کیا اس فوج میں ہمارا حصہ نہیں ہونا چاہئے؟ اس فوج میں کتنے سندھی ہیں؟ کتنے بلوچ ہیں؟ کتنے سرائیکی ہیں؟‘‘ یہ سوال دراصل پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، نمائندگی اور قومی اداروں میں شمولیت کے احساس سے جڑا ہوا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ایسے سوالات اٹھانا کوئی انہونی بات نہیں، مگر ان کا جواب اعداد و شمار اور حقائق کی روشنی میں دینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ بحث جذبات کے بجائے شواہد پر مبنی ہو۔.
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افواجِ پاکستان کی 3141 شہادتوں کے اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر سے 9 افسران، 10 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 215 جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بلوچستان سے 11 افسران، ایک جونیئر کمیشنڈ افسر اور 91 جوان شہید ہوئے۔ خیبر پختونخوا سے 24 افسران، 47 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 463 جوانوں نے قربانی دی۔ سندھ سے 15 افسران، 31 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 406 جوان، گلگت بلتستان سے 7 افسران، 3 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 151 جوان جبکہ پنجاب سے 104 افسران، 120 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 1433 جوان شہید ہوئے۔
اسی طرح مجموعی اعداد و شمار میں آزاد کشمیر کے 234، بلوچستان کے 103، خیبر پختونخوا کے 534، سندھ کے 452، گلگت بلتستان کے 161 اور پنجاب کے 1657 فوجی جوانوں کی شہادت کا ذکر کیا گیا۔ ان میں 3141 شہداء نے گزشتہ پانچ سالوں میں وطنِ عزیز کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جنہیں پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ افواجِ پاکستان کسی ایک صوبے یا علاقے کی نمائندہ نہیں بلکہ پورے وفاق کی عکاس ہیں۔ پاکستان کی فوج میں بھرتی کا نظام میرٹ، کوٹہ اور علاقائی نمائندگی کے اصولوں پر استوار ہے، جس کا مقصد قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ شہداء کی فہرست اس بات کی گواہ ہے کہ ملک کے ہر خطے سے تعلق رکھنے والے جوانوں نے یکساں جذبے کے ساتھ قربانیاں دی ہیں۔
البتہ اس بحث کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی خطے میں یہ احساس موجود ہے کہ اسے قومی اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں مل رہی تو اس احساس کو محض رد کرنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے دور کرنا زیادہ مفید ہوگا۔ شفاف اعداد و شمار، کھلے مباحثے اور پالیسی کی وضاحت ایسے شکوک کو کم کر سکتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ سوال بھی اٹھتے ہیں اور ان کے مدلل جواب بھی دیے جاتے ہیں۔
عاصمہ جہانگیر کانفرنس جیسے فورمز کا اصل مقصد اگر انسانی حقوق اور آئینی بالادستی کا فروغ ہے تو وہاں پیش کی جانے والی معلومات کی درستگی اور توازن بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بطور رپورٹر یا تجزیہ نگار فیکٹ فائنڈنگ کی ذمہ داری اس لیے اہم ہے کہ ادھورے یا غلط اعداد و شمار عوامی رائے کو متاثر کرتے ہیں۔ قومی اداروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ذمہ داری اور احتیاط کا تقاضا اور بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کا تعلق ریاستی وحدت اور اجتماعی اعتماد سے ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج میں شامل ہر سپاہی کی شناخت اس کے صوبے سے پہلے پاکستانی کی ہوتی ہے۔ شہداء کے خون نے اس مٹی کو یکجا رکھا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو قومی اداروں کی ساکھ سے نہ جوڑا جائے بلکہ حقائق، شفافیت اور باہمی احترام کے ساتھ مکالمے کو آگے بڑھایا جائے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر قومی یکجہتی اس کی بنیاد۔
3141 شہداء کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا دفاع کسی ایک خطے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری اور اعزاز ہے۔ یہی پیغام ہر بحث اور ہر کانفرنس کے پس منظر میں پیشِ نظر رہنا چاہیے۔