‌ پاسپورٹ بنوانے والوں کے لئے اہم خبر آگئی

‌ پاسپورٹ بنوانے والوں کے لئے اہم خبر آگئی

حکومتِ پاکستان نے رمضان المبارک 2026 کے دوران عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاسپورٹ دفاتر کے اوقاتِ کار اور پاسپورٹ فیسوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہےاس اقدام کا مقصد روزہ دار شہریوں کو پاسپورٹ کے اجرا اور دیگر متعلقہ خدمات کے حصول میں آسانی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کم وقت میں اپنی ضروری کارروائیاں مکمل کر سکی

نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے رمضان المبارک کے دوران ریجنل پاسپورٹ دفاتر (RPOs)، ایگزیکٹو پاسپورٹ دفاتر اور پاسپورٹ پروسیسنگ کاؤنٹرز کے سرکاری اوقاتِ کار جاری کر دیے ہیں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پیر سے جمعرات تک عام عوام کے لیے ٹوکن جاری کرنے اور پاسپورٹ سروسز فراہم کرنے کا وقت صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ہوگا۔ تاہم دفاتر کے مجموعی اور انتظامی اوقات بدستور صبح 8:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک برقرار رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری،پاکستان کا کتنا نمبر ہے؟

جمعہ کے روز عوامی سہولت اور ٹوکن جاری کرنے کا وقت صبح 9 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دفاتر جمعہ کو بھی صبح 8:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک کھلے رہیں گے،اعلامیے کے مطابق روزانہ نماز کے لیے دوپہر 1 بجے سے 1:30 بجے تک وقفہ رکھا جائے گا تاکہ عملہ اور شہری باآسانی نماز ادا کر سکیں۔

حکومت نے رمضان 2026 کے لیے پاسپورٹ فیس کی تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں 36 صفحات والے پاسپورٹ کی عام درخواست کے لیے پانچ سالہ فیس 4,500 روپے جبکہ دس سالہ فیس 6,700 روپے مقرر کی گئی ہے ،اسی پاسپورٹ کی فوری پروسیسنگ کے لیے فیس بالترتیب 7,500 روپے اور 11,200 روپے ہوگی۔

72 صفحات والے پاسپورٹ کے لیے عام درخواست کی فیس پانچ سال کے لیے 8,200 روپے اور دس سال کے لیے 12,400 روپے رکھی گئی ہے، جبکہ فوری پروسیسنگ کی صورت میں یہ فیس 13,500 روپے اور 20,200 روپے ہوگی۔

اسی طرح 100 صفحات والے پاسپورٹ کے لیے عام فیس پانچ سال کے لیے 9,000 روپے اور دس سال کے لیے 13,500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ فوری پروسیسنگ کی فیس بالترتیب 18,000 روپے اور 27,000 روپے ہوگی۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ خصوصی اوقاتِ کار RPO G-10/4 اسلام آباد، RPO گارڈن ٹاؤن لاہور، RPO عوامی مرکز کراچی اور نادرا میگا سینٹرز پر لاگو نہیں ہوں گے، جہاں معمول کے مطابق شیڈول برقرار رہے گا،رمضان المبارک میں عوامی رش اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کم سے کم انتظار اور زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *