اقوام متحدہ: افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ، پاکستان کا سلامتی کونسل میں سخت احتجاج
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔۔
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں 80 سے زائد بے گناہ پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ان تمام وحشیانہ حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے افغان سرزمین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت (طالبان) اپنے عالمی وعدوں کی پاسداری کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی زمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ انہوں نے ٹی ٹی پی (TTP) اور دیگر کالعدم گروہوں کی موجودگی کو ایک مستقل خطرہ قرار دیا۔
دہشت گردی کے ساتھ ساتھ، عاصم افتخار نے افغانستان میں جاری انسانی بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خاص طور
پر خواتین کے حقوق کی پامالی اور ان کی تعلیم و روزگار پر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک جامع اور مستحکم افغانستان کے لیے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔