بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر امریکا اور ایران کے درمیان مغربی ایشیا میں تنازع کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک پوسٹ جاری کی جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اپنی پوسٹ میں نریندر مودی نے لکھا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان مغربی ایشیا میں تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید معاشی خلل اور مختلف ممالک میں جانی نقصان ہوا۔
تاہم نریندر مودی نے اپنی پوسٹ میں ایران امریکہ مذاکرات کو کامیاب بنانے والے ملک ’’پاکستان‘‘ کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا جس پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
مودی کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ختم کرانے میں مرکزی کردار ادا کرنے والا ملک پاکستان ہے، لیکن مودی نے اپنی پوسٹ میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے مودی کی پوسٹ پر کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا خاتمہ صرف پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ایک صارف نے لکھا کہ مودی کا بیان محض ایک کمزور اور تاخیر سے دیا گیا “خیرمقدم” ہے، جبکہ بھارت نے ایک اور سفارتی موقع ضائع کر دیا ہے۔ صارف کے مطابق پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے اور بھارتی قیادت ناکام رہی ہے، اب خطے میں حقیقی امن اور معاشی بحالی پر توجہ ہونی چاہیے۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ بھارت کا ہمسایہ پاکستان، جس پر مودی حکومت دہشت گردی کے الزامات لگاتی رہی ہے، اسی نے اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ بھارتی قیادت صرف بیرون ملک دوروں میں مصروف رہی۔ صارف نے مزید کہا کہ بھارت اس صورتحال میں غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے۔
مزید ایک صارف نے سخت الفاظ میں لکھا کہ پاکستان نے پس پردہ حقیقی سفارتی کام کیا جبکہ مودی صرف “ویلکم نوٹس” ٹوئٹ کرنے میں مصروف رہے۔ صارف نے بھارت کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے امریکی اقدامات اور خطے کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے۔