بھگوڑے عادل راجہ اور شہزاد اکبر کے گھر پر مبینہ حملہ کیس : بے بنیاد پروپیگنڈا بے نقاب، عدالتی کاروائی میں پاکستان کا ذکر تک موجود نہیں

بھگوڑے عادل راجہ اور شہزاد اکبر کے گھر پر مبینہ حملہ کیس : بے بنیاد پروپیگنڈا بے نقاب، عدالتی کاروائی میں پاکستان کا ذکر تک موجود نہیں

لندن کی سینٹرل کرمنل کورٹ اولڈ بیلی میں کبھگوڑے عادل راجہ اور شہزاد اکبر کے گھر پر مبینہ حملوں کے مقدمے میں سات ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمان میں آصف افسر، مارک ریگن، میکگری کلارک، لیام میکالے، ڈونیٹو برامر، لوئس ریگن اور کلارک بلیک وڈ شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو وینزورتھ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے نام اور رہائشی پتے کی تصدیق کی۔ کسی بھی ملزم نے ضمانت کی درخواست دائر نہیں کی۔

پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان پر دسمبر کے اختتام اور جنوری کے اوائل میں دو مختلف مقامات پر حملے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کے الزامات ہیں۔ تاہم سماعت کے دوران عدالتی ریکارڈ یا استغاثہ کے مؤقف میں پاکستان یا کسی پاکستانی ادارے کا کوئی حوالہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی عدالتوں، دفاتر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے آج سے نیا ضابطہ لاگو، شہریوں کے لیے اہم اطلاع

یاد رہے کہ شہزاد اکبر اور بھگوڑے عادل راجہ نے مبینہ حملوں کے بعد اپنی ویڈیوز میں پاکستان اور پاکستانی اداروں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اولڈ بیلی میں ہونے والی حالیہ کارروائی میں اس نوعیت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

عدالت نے سماعت کے دوران چھ ملزمان کا ٹرائل 6 اپریل سے برمنگھم کراؤن کورٹ میں شروع ہونے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈونیٹو برامر کا علیحدہ ٹرائل 16 جون 2027 سے دوبارہ اولڈ بیلی میں ہوگا۔ جج نے وکلا کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں دفاعی بیانات اور شواہد جمع کرائے جائیں، بصورت دیگر قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعتوں میں کیس کی باقاعدہ ٹرائل کارروائی شروع کی جائے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *