صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی کا احتجاج، ایک اور جان چلی گئی

صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی کا احتجاج، ایک اور جان چلی گئی

صوابی انٹرچینج پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ٹریفک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں نوشہرہ شیرین کوٹ سے تعلق رکھنے والی خاتون انور بیگم ایمبولینس میں انتقال کر گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ایمبولینس کو بروقت اسپتال پہنچنے سے روکا گیا، جس کی وجہ سے خاتون کی زندگی بچائی نہ جا سکی۔

عوام نے احتجاج کے اس گھٹیا لائحۂ عمل پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پی ٹی آئی اپنی ہی صوبے کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے ایسے اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں جن کا براہِ راست نقصان عام عوام کو ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:Pبانی پی ٹی آئی کی تکلیف پر سیاست مجرمانہ فعل ہے، ہرممکن علاج کرائیں گے ، طارق فضل چودھری

عوام نے مزید کہا کہ جو جماعت صوبے کے لوگوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، وہی آج انہی لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ احتجاج کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوتا ہے، دیہاڑی دار مزدور خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ہیں، مریضوں کو اسپتال پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے، لوگ ایمبولینسز میں وفات پا رہے ہیں اور طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔

ٹریفک کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ عوام نے واضح کیا کہ بار بار کی کالز اور احتجاجی اعلانات کے باوجود عوامی جوش و جذبہ پہلے جیسا نہیں رہا، اور ایسے اقدامات اکثر ناکامی سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ شہریوں کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل انتشار نہیں بلکہ سنجیدہ اور پرامن طریقے اختیار کرنے میں ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے عام لوگوں کو مشکلات میں ڈالنا کسی طور مناسب نہیں۔

Related Articles