روس میں تعینات ایران کے سفیر کاظم جلالی نے تہران کے دفاعی عزم اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحد ہے اور قوم کے پاس کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے آہنی عزم موجود ہے۔
روسی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملے اور تخریبی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اور ایران کا دفاعی نظام دشمن کے ہر وار کو روکنے کے لیے تیار ہے۔
سفیر کاظم جلالی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران اس عالمی تجارتی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری تندہی سے نبھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہونے سے باضابطہ انکار
انہوں نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس ایران کو اسرائیلی حملوں کے خلاف حساس انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔
کاظم جلالی نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی رپورٹس درست نہیں ہیں اور ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنی خود مختار صلاحیتوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک پر مکمل انحصار کرتا ہے۔
20 اپریل 2026 کو سامنے آنے والا یہ بیان تہران کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنی عسکری خود مختاری اور علاقائی بالادستی کو برقرار رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ براہِ راست تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی پابندیوں کے ساتھ ساتھ عسکری ناکہ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کیا ہے۔

