ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ کب سے؟، محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئی جاری

ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ کب سے؟، محکمہ موسمیات کی تازہ پیش گوئی جاری

ملک کے جنوبی اور بالائی علاقوں میں ایک بار پھر موسم بدلنے جا رہا ہے اور محکمہ موسمیات پاکستان نے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 16 فروری سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک کے جنوبی حصوں میں داخل ہونے کا امکان ہے جو مختلف علاقوں میں بارش کا باعث بنے گا۔

محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ سولہ اور سترہ فروری کو وزیرستان، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ بعض مقامات پر تیز ہوائیں چلنے اور موسلا دھار بارش کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جس سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں:پاک، بھارت میچ سے قبل اچھی خبرآگئی

اسی دوران بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، ژوب، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، خضدار، سبی، نصیرآباد، جھل مگسی، مستونگ، بارکھان، موسیٰ خیل اور قلات میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بعض پہاڑی علاقوں میں ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے جس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مکران کے ساحلی علاقوں آواران، گوادر، اورماڑہ اور پسنی میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ سمندری سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

17 فروری کو سندھ کے مختلف شہروں بشمول کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد اور خیرپور میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔

پنجاب کے جنوبی اضلاع ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور میں بھی چند مقامات پر بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث کمزور تعمیرات، کچے مکانات اور بجلی کی تنصیبات متاثر ہو سکتی ہیں، اس لئے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں بارشیں ، سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ

ماہرین کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ خشک موسم کے بعد زرعی شعبے کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے تاہم شہری علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل چیلنج بن سکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *