عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور کل جینیوا میں شروع ہوگا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی اور تکنیکی وفد کے ہمراہ مذاکرات میں شرکت کیلئے سوئٹزر لینڈ روانہ ہوگئے، عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منگل سے شروع ہوگا۔
جنیوا کے دورے کے دوران وزیر خارجہ سوئٹزرلینڈ اور عمان کے وزرائے خارجہ، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور سوئٹزرلینڈ میں موجود دیگر بین الاقوامی عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔
سوئس حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے جنیوا شہر میں ہوگا جس کی میزبانی سلطنت عمان کرے گی جو اس سے قبل اس ماہ مسقط میں پہلے دور کی میزبانی کر چکی ہے۔
قبل ازیں جمعہ کی صبح مسقط میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہواتھا، یہ وہ مذاکراتی راستہ ہے جو گزشتہ سال ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد منقطع ہو گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں تہران کے خلاف امریکی فوجی نقل و حرکت کے باعث تناؤ بڑھ رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹ کیمطابق امریکی اور ایرانی فریقین کے درمیان بات چیت کی میزبانی عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کی تھی، مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔
امریکہ کی نمائندگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے کی۔ بات چیت میں ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی، نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی امور حمید قنبری اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی شرکت کی۔
موجودہ مذاکراتی دور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور ایران پر حملے کی اسرائیلی دھمکیوں کے درمیان منعقد ہو رہا ہے تاکہ اسے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کو ختم کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
تہران کا اصرار ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل فوجی مداخلت اور حکومت کی تبدیلی کے لیے بہانے تراش رہے ہیں اور وہ کسی بھی فوجی حملے کا جواب دینے کا عزم رکھتا ہے چاہے وہ محدود ہی کیوں نہ ہو، اور وہ اپنے جوہری پروگرام پر پابندی کے بدلے مغربی اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔
اختلافی نکات
یورینیم کی افزودگی اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ایران سے اخراج دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف کا ایک بڑا نکتہ ہے، ایران اپنے جوہری پروگرام کو ایٹم بم کی تیاری سے روکنے کی پابندی کے بدلے پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکالے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے علاوہ کسی اور معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور عمان میں ہوا تھا، جس میں بات چیت مزید جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔